پردہ — Page 182
پرده واقفات کو بچیوں کو قیمتی نصائح سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خاص طور پر پردے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔یہ صرف عورتوں کو لڑکیوں کو، بچوں کو بعض دفعہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ صرف کا حکم ہمیں کیوں دیا گیا ہے۔مردوں کو بھی کوئی حکم ہونا چاہئے پردے کا۔حالا نکہ جہاں اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم دیا ہے وہاں نظریں نیچی رکھنے کا پہلے حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو تا کہ تمہاری حیا ٹپکے۔اس سے پہلی آیت میں مردوں کے لئے حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔بلاوجہ یونہی دائیں بائیں دیکھتے نہ جاؤ۔ہر ایک عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو۔پہلے مرد کو حکم ہے پھر عورت کو حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھے اور اپنی زینت ظاہر نہ کرے۔پھر آگے اس کی تفصیل ہے کہ اپنے سروں کو ڈھانکو۔اپنے جو جسم کے اعضاء ہیں ایسے جنہیں پردے کی ضرورت ہے، جن کو مردوں سے چھپانے کی ضرورت ہے ان کو چھپاؤ۔باہر ایسی زینت ظاہر نہ کرو جو تم اپنے ماں باپ، بھائی اور سگے رشتہ داروں کو دکھاتی ہو۔تو باپ اور بھائی اور سگے رشتہ داروں میں چہرہ ہی ننگا ہوتا ہے ناں باقی ننگ تو ظاہر نہیں ہو رہا ہوتا۔ہاتھ نظر آرہے ہوتے ہیں۔یا سر پر دوپٹہ نہ ہو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔چہرہ بھی نظر آرہا ہوتا ہے لیکن انسان باقی جسم مکمل طور پر باپ بھائی وغیرہ کے سامنے نہیں کرتا۔ہر عقلمند انسان ایسا کرتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ جب باہر نکلو تو اس سے بڑھ کر تمہارا پر دہ ہونا چاہیئے۔یہ حکم ہے“ واقفات کو کونصیحت کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : واقفات تو جو ہیں ان کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اپنے ہر معاملے میں رول ماڈل بنیں۔ایک نمونہ بننا ہے۔اس لئے اس معاشرے میں جہاں پر دے کا بڑا شور 182