پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 222

پردہ — Page 177

پرده استعمال ہوتی ہے۔لڑکیاں جلد بے وقوف بن جاتی ہیں۔جو کوئی تمہاری تعریف کر دے تو تم کہوگی کہ تم سے اچھا کوئی نہیں۔اگر ماں باپ نصیحت کریں تو تم کہوگی کہ ہم تو جرمنی میں پڑھی ہوئی ہیں اور آپ لوگ کسی گاؤں سے اٹھ کر آگئے ہو۔الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، یعنی ہر اچھی بات جہاں سے بھی اور جس جگہ سے بھی ملے، لے لیں۔ان لوگوں کی سب ایجادیں اچھی نہیں ہیں“۔جو بات نہیں مانتیں وہ پھر روتے روتے مجھے خط لکھتی ہیں کہ غلطی ہوگئی ہے کہ ہمیں فلاں جگہ trap کرلیا گیا ہے۔جس شخص نے یہ facebook بنائی ہے اُس نے خود کہا کہ میں نے اس لئے بنائی ہے کہ ہر شخص کو ننگا کر کے دنیا کے سامنے پیش کروں۔کیا احمدی لڑ کی نگا ہونا چاہے گی۔جو نہیں مانتے نہ مانیں۔“ ( کلاس واقفات نو 8 اکتوبر 2011ء بمقام مسجد بیت الرشید، جرمنی۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 6 جنوری 2012ء) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ ناروے کے دوران مسجد بیت النور بن سپیٹ میں واقفاتِ نو کے ساتھ ایک کلاس ہوئی۔اس کلاس میں ایک بچی نے مضمون پڑھ کر سنایا جس کا موضوع تھا : ”حیا اور پاکدامنی 66 احمدی لڑکی کی شان اور پہچان ہے۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ: دو پردے کے اوپر آپ نے بڑا اچھا مضمون پیش کیا ہے۔لیکن صرف اچھا مضمون پیش کرنے سے نہیں ہوجاتا۔پردے کا معاملہ تو ساری دنیا میں ہے لیکن یورپ میں خاص طور پر ہے۔ایک وقت میں نارمرے کے بارہ میں کے حوالہ سے زیادہ شکایتیں آتی تھیں اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ناروے میں ایک بڑا سخت خطبہ دیا تھا۔میں نے بھی اپنے خطبہ میں اس کی مثال دی تھی اور اس کا ذکر کیا تھا۔کیونکہ مجھے ذاتی تجربہ تو نہیں ہے لیکن ان دنوں کی باتوں 177