پردہ — Page 157
اسی طرح لڑکیوں کے دوسرے شہروں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اگر ماں باپ اجازت دیں تو پھر سوچا جاسکتا ہے کہ جہاں جانا ہے وہاں کس کے پاس رہنا ہے۔لڑکیوں کا علیحدہ ہوسٹل ہونا چاہئے۔اگر علیحدہ ہے تو ٹھیک ہے۔پھر وہاں پڑھتے ہوئے اپنے تقدس کا، پاکیزگی کا خیال رکھناضروری ہے۔پرده حضور انور نے مزید فرمایا کہ ربوہ کی لڑکیاں جب باہر پڑھنے جاتی تھیں تو ہر لڑ کی نظارت تعلیم کے ذریعہ مجھ سے اجازت لیتی تھی۔co-education کی صورت میں بھی مجھ سے اجازت حاصل کرتی ہیں۔پھر لکھ کر دیتی ہیں کہ پردے میں رہ کر پڑھائی کریں گی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچیوں سے فرمایا کہ اگر والدین کو تسلی نہیں ہے تو پھر بہتر ہے کہ اپنے علاقہ میں رہو اور یہیں پڑھائی کرو۔“ کلاس واقفات نو جرمنی 8اکتوبر 2011ء - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 6 جنوری 2012ء) ایک دوسری مجلس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ کیا اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی اور ملک میں جا کر تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے؟ اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : اگر آپ higher ایجوکیشن کے لئے باہر جانا چاہتی ہیں اور اپنے ملک میں اس کا انتظام نہیں ہے تو والدین کی اجازت لے کر جائیں لیکن اپنے تقدس او حرمت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔اپنی پاکیزگی کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور پھر وہاں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔اسی طرح وہاں آپ نے دوستیاں بنانے سے پر ہیز کرنا ہے اور اپنی پڑھائی سے تعلق رکھنا ہے۔“ کلاس طالبات جرمنی 10 جون 2006 ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 7 / جولائی 2006ء) 157