پردہ — Page 56
پرده دور کی بات ہے جب Indo-Pak ایک continent تھا اور انگریزوں کے زیر اثر تھا اور ان کے وائسرائے اور لارڈ ز اور گورنر وغیرہ ہوتے تھے۔ان میں سے بعضوں کے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ میں دہلی گیا ہوا تھا تو وہاں ایک لارڈ نے میری دعوت کی تو میں نے اُسے کہا کہ مجھے نہ بلاؤ کیونکہ وہاں اور کبھی بہت سارے لوگ ہوں گے اور عورتیں بھی ہوں گی اور میں نے عورتوں سے سلام نہیں کرنا تو اس سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو گی۔اس پر اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں ، آپ آجائیں۔تو میں نے کہا ٹھیک ہے، میں پھر ایک کونے میں بیٹھوں گا۔تو وہاں ایک کونے میں بیٹھ گئے لیکن وہاں بھی ایک پرانا واقف انگریز ملنے کے لئے آ گیا اور اس کی بیوی نے ہاتھ بڑھا دیا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری طرف سے معذرت ہے میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔اس پر وہ عورت بڑی ناراض ہوئی اور وہ انگریز خود بھی بڑا شرمندہ ہوا اور بعد میں لکھا کہ میں ساری رات بے چین رہا کہ آپ بھی کہتے ہوں گے کہ میرے آپ کے ساتھ اتنے پرانے تعلقات ہیں اور مجھے اسلام کی تعلیم کا بھی پتہ ہے اس کے باوجود میں نے اپنی بیوی کو نہیں بتایا کہ سلام کے لئے آگے ہاتھ مت بڑھانا اور بیوی کے لئے بھی میں علیحدہ پریشان رہا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بعد میں اس کو خط بھی لکھا اور اس کی دعوت بھی کی اور اس کی بیوی کو بھی بلایا۔انہیں کھانا وغیرہ کھلایا اور ان کی اچھی دعوت ہو گئی اور ان کی تسلی ہو گئی۔“ 66 ایک واقعہ نو نے عرض کیا کہ ہمارے حلقہ کی ایک لجنہ نے بتایا کہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں اور ڈاکٹر نے آگے ہاتھ بڑھا دیا تھا جس پر انہوں نے ڈاکٹر 56