پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 222

پردہ — Page 154

پرده پر قائم بھی رکھے اور شیطانی خیالات کو اللہ تعالیٰ مجھ پر حاوی نہ ہونے دے۔اگر یہ سب کچھ ہو گا تو دنیا کی جو لذات ہیں، دنیا کے فیشن ہیں یا یہ احساس کمتری کہ اگر ہم دنیا کے مطابق نہ چلے تو ہمیں دنیا کیا کہے گی، یہ سب چیزیں بے حیثیت ہو جائیں گی۔دین اور جماعت مقدم ہو جائے گی۔ایک احمدی لڑکی اپنی حیا کی حفاظت کرنے والی ہو جائے گی۔اس کو یہ خیال نہیں آئیں گے کہ کیا حرج ہے اگر میری تصویر رسالوں میں چھپ جائے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا جو کا حکم ہے اسے اس بات سے روکے رکھے گا کہ یہ حرکت نہیں کرنی۔یہ خیال پیدا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے اور یہ حکم بھی کا اور اپنی حیا کا قرآن کریم کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔اس لئے میں نے بہر حال اپنی حیا اور اپنے پر دہ کی حفاظت کرنی ہے۔تمام ان باتوں پر عمل کرنا ہے یا کرنے کی کوشش کرنی ہے جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے اُن راستوں پر چلنے کی دعا مانگنی ہے جو اس کی پسند کے راستے ہوں۔خلیفہ وقت کی طرف سے ملنے والے ہر حکم کی تعمیل کر کے اپنے عہد کو پورا کرنا ہے کہ جو بھی معروف فیصلہ وہ کریں گے اُس کی پابندی ضروری سمجھوں گا اور یہ پابندی قرآن کریم میں ہے۔جب اس سوچ کے ساتھ ہر عورت زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے گی ، ہر مرد زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر یہ کڑا جس پر اُس نے ہاتھ ڈالا ہے اُسے شیطانی اور دنیاوی خیالات سے بچانے کی ضمانت بن جائے گا۔اس کی وضاحت بھی جو پہلے میں نے آیت تلاوت کی اُن میں سے اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے کہ : اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا (البقرة:258) کہ اللہ تعالیٰ اُن کا دوست ہے جو ایمان لائے۔پس اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ جس کا دوست ہو جائے ، شیطان وہاں آ سکے۔“ 66 خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 8 ستمبر 2012، بمقام حدیقۃ المہدی مطبوع الفضل انٹرنیشنل 30 نومبر 2012ء) 154