پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 222

پردہ — Page 141

خشیت اللہ بلندیوں پر ہو وہاں اُن کی نیک تربیت سے ان کے بچوں کے ایمان بھی ترقی پذیر ہوں ورنہ ہر ماں تو جنت کی خوشخبریاں دینے والی نہیں ہے۔پس ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو یاد کریں کہ میں ایمانوں کو مضبوط کرنے آیا ہوں۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 25 جولائی 2009ء - مطبوعہ المفضل انٹرنیشنل 21 جون 2013ء) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطاب میں فیشن اور بے حیائی کے باہمی تعلق کے منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے والدین کو بچیوں میں حیا پیدا کرنے اور کروانے کے حوالہ سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: لباس کے ننگ کے ساتھ ہی ہر قسم کی بے ہودگی اور ننگ کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔ماں باپ کہہ دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں بچیاں ہیں۔فیشن کرنے کا شوق ہے، کرلیں کیا حرج ہے۔ٹھیک ہے فیشن کریں لیکن فیشن میں جب لباس ننگے پن کی طرف جارہا ہو تو وہاں بہر حال روکنا چاہئے۔فیشن میں برقع کے طور پر جو کوٹ پہنا جاتا ہے وہ بھی اس قدر تنگ ہو کہ مردوں کے سامنے جانے کے قابل نہ ہو تو وہ فیشن بھی منع ہے۔یہ فیشن نہیں ہوگا پھر وہ بے حیائی بن جائے گی۔پھر آہستہ آہستہ سارے حجاب اُٹھ جائیں گے اور اسلام حیا کا حکم دیتا ہے۔پس اپنی حیا اور حجاب کا خیال رکھیں اور اس کی حدود میں رہتے ہوئے جو فیشن کرنا ہے کریں۔فیشن سے منع نہیں کیا جاتا لیکن فیشن کی بھی کوئی حدود ہوتی ہیں ان کا بھی خیال رکھیں۔فیشن کا اظہار اپنے گھر والوں اور عورتوں کی مجلسوں میں کریں۔بازار میں اور باہر اور ایسی جگہوں پر جہاں مردوں کا سامنا ہو وہاں فیشن کے یہ اظہار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جس سے بلاوجہ کی برائیاں پیدا ہونے کا امکان ہو سکے۔“ 66 ( خطاب بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ جرمنی 11 جون 2006ء - مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 19 جون 2015ء) پرده 141