قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 4
بسی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اس کی روحانی اور باطنی اور تبلیغی سرحدوں کو بے شمار صوفیاء ، اولیاء اور علماء ربانی نے اپنی نیم شبی دعاؤں، تبلیغی جہاد او پاک اور پرکشش اخلاق و اطوار سے اور اس کی مادی حدود کو غزنی ، غوری خلیجی، تخلقی، لودھی ، افغانی اور مغلیہ خاندان کے مسلمان بادشاہوں نے وسیع تر کر دیا جو در اصل اہل اللہ کی تو جہات رُوحانی ہی کا فیض تھا۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں :۔پہلے بادشاہوں کے زمانہ میں یہ قاعدہ ہوتا تھا کہ ان کے رہا ہوں میں کوئی نہ کوئی اہل اللہ بھی موجود ہوا کرتے تھے جن کے صلاح مشوروں سے بادشاہ کام کیا کرتے تھے اور ان کی دعاؤں سے فائدہ اُٹھایا کرتے تھے یہ ( ملفوظات جلد دہم صلا) پھر ارشاد فرماتے ہیں کہ : پہلے اسلامی بادشاہوں کے متعلق سنا جاتا ہے کہ وہ پیصائب کے وقت راتوں کو رو رو کر دعائیں کرتے تھے ! ملفوظات جلد نهم مثه نیز اسلامی ہند کی حقیقی شان و شوکت اور مروج و اقبال کو بزرگان دین کے فیض و برکت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- اسلام ہند میں ان مشائخ اور بزرگان دین کی توقیہ، دعا اور تصرفات کا نتیجہ ہے جو اس ملک میں گزرے تھے۔بادشاہوں کو یہ توفیق کہاں ہوتی ہے کہ دلوں میں اسلام کی محبت ڈال دیں۔!