قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 37
۳۷ تہ دار احمدیوں عائد ہوتی مگر اس سبات ذمہ داری احمدیوں پر عائد ہوتی ہے مگر اس سلسلہ میں حضور نے مجلس مشاورت اتحاد کے اجلاس اوّل میں سالمیت و استحکام پاکستانی کے لئے خاص دعاؤں کی ایک پر زور تحریک فرمائی چنانچہ حضور نے فرمایا :- دنیا میں تین قسم کے انسان پائے جاتے ہیں، ایک وہ گروہ ہے جو سرے سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ہی قائل نہیں ہے۔دوسرا وہ گروہ ہے جو کہتا ہے کہ خدا اس کائنات کو پیدا کرنے والا تو ہے لیکن پیدا کرنے کے بعد وہ اس سے بے تعلق ہو گیا ہے۔تیسرا وہ گروہ ہے جو خدا تعالے کے حقیقی بندوں کا گروہ ہے۔وہ پوری بصیرت کے ساتھ الامر الله اور القدرة لِلہ پر ایمان رکھتے ہیں۔پہلے دو گر وہ دعا کے قائل ہو ہی نہیں سکتے البتہ تیسرا گروہ جو بچے احمدیوں کا گروہ ہے جو ہر آن الله تعالے کے حسن و احسان کے جلوے دیکھتے اور اس کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اُن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دعائیں کریں۔پس علی وجہ البصیرت ہم ہی دعا کر سکتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہم تمام بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کریں وہاں ہمیں اپنے ملک کی سالمیت ، استحکام اور حفاظت کے لئے بھی پوری عاجزی اور در دو الحاج کے