بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 117
۲۲۱ ہوگی۔کیا یہ ایک ہی مسئلہ اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ خداوندی قانون کے مقابلہ پر قانون تجویز کرتے وقت بہاء اللہ نے کسی قدر ٹھوکریں کھائی ہیں۔اور (۲۲) بائیسویں خصوصیت ان کے حصوں کی تقسیم کی ہے۔(۲۳) تیئیسویں خصوصیت جناب بہاء اللہ نے ایک حیکم دیا ہے :- قد حرم عليكم بيع الاماء والغلمان ليس لعبد ان يشترى عبدا را قدس نشا) کہ لونڈیوں اور غلاموں کا بیچنا حرام ہے کیسی معلم کا حق نہیں کہ غلام کو خرید سے " اسلام نے غلامی کے انسداد کے لئے جو اصول و قواعد مقرر گئے ہیں۔ان کے سامنے بہائیت کا یہ حکم کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اسلام بہائی مذہب کے مطابق وہ اس صورت میں نافذ ہو گی جبکہ متولی نے خود وصیت کے ذریعہ اس کو منسوخ نہ کر دیا ہو۔ورنہ ہر بہائی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وصیت کر کے ان حصوں کو باطل کر دے اور نے صرف جنگ کی صورت میں مذہب کو مٹانے اور مسلمانوں کی حریت جس طرح چاہے اپنی جائیداد کی تقسیم کے متعلق ہدایت دے جائے۔کو تباہ کرنے والوں کو قیدی بنانے کا حکم دیا ہے (سورہ تو یہ 41) جناب عبد البہاء افندی لکھتے ہے اور ان تیدیوں کے اقسام کے لحاظ سے فرمایا ہے :- فاما منا تجد وَإِمَّا نداء سوره محمد ؟ (۴) کہ پھر ان میں سے بعض کو بطور احسان چھوڑ دو اور بعض سے ضرور فدیہ وصول کرو موخر ا تا مسئله میراث این تقسیم در صورت است که شخص متوفی وصیت نماید آن وقت این تقسیم جاری گردد یہ بھی ایک ایسی خصوصیت ہے جو صرف بہائی ازم میں پائی جاتی ہے الذکریم کے تیری ہی تا ادائیگی در فدیہ غلام ہوتے ہیں۔ایسے کہ مرنے والا اپنی وصیت کے ذریعہ اپنے اصحاب الفرائض کو اللہ غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا اسلام کے احکام میں سے ہے۔کے مقرر کہ وہ حقوق سے محروم کر سکتا ہے جب یہ صورت تھی یہ تھے حصے مقرر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔صرف یہ حکم دے دیا جاتا غلاموں کی غلامی کو پختہ کر دیا جو اس وقت غلام ہیں کیونکہ اب ان کہ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ورثہ کی تقسیم کا حکم دے کو خرید کر آزاد نہیں کرایا جا سکتا۔ایسا ہی اس نے صرف یہ کہا ہے کہ کسی غلام کو خریدنا جائز نہیں۔یہ نہیں کہا کہ ہر صورت کلام جاوے۔جناب بہاء اللہ نے یہ کہ شکر کہ غلاموں کو بینا حرام ہے ، ان