بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 9
۱۵ ۱۴ خاندان تجارت پیشہ تھا۔وہ پندرہ برس کی عمر میں اپنے ماموں صاحب کے ہابی اور بہائی روایات سے ظاہر ہے کہ باب کا دل تجارت میں نہیں ہمراہ تجارت میں مشغول ہوئے۔ان کی تعلیمی حالت کے تعلق بہائی ہوا کھا رہا تھا۔وہ عام طور پر اوراد میں مشغول رہتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے۔لگ میں لکھا ہے :- وہ (علی محمد باب) تجارت پیشیہ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔اس واسطے صرف اتنی ہی تعلیم پائی تھی یقینی کہ حساب کتاب کے واسطے ضروری تھی جیسی کہ ہمارے ہندوستان میں کچھ زمانہ تک دی جاتی تھی۔اور ایران میں آجتک دی جاتی ہے غالباً اس میں قرآن شریف حفظ کرنا بھی شامل تھا جیسا کہ پرانے طریقہ کے مسلمان خاندانوں کا طریقہ تھا یہ ربہاء اللہ کی تعلیمات صت حضرة الباب كان يبدي الملل من ذلك و ن يؤثر الاعتكاف والانزواء ورغما عن هذا الشغل الشاغل كان كثيرا ما يدع المتجر ويرقى على سطح المنزل مشتغلا بالدعاء والابتهال وتلادة الاوراد والاذكار الكواكب ملك ) ترجمہ :۔کہ باب اس تجارتی کا رویارہ سے ملال کا اظہار کرتا تھا اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتا تھا۔چنانچہ مشاغل کے باوجود جناب سید علی محمد صاحب کے اپنے بیان سے ظاہر ہے کہ ان کے وہ دکان چھوڑ کر اس کی چھت پر چڑھ جاتا تھا۔دعا کرنے استاد کا نام محمد تھا۔چنانچہ بہائی مورخ عبدالحسین لکھتا ہے :۔رونے اور اور اد پڑھنے میں منہمک ہو جاتا تھا۔جاء بالبيان من بیانات حضرت الباب ما بائیس برس کی عمر میں جناب سید علی محمد کی شادی ہوئی۔دوسرے سال يدل على ان معلمة يسمى بمحمد وفي ان کے ہاں ایک سمجھ پیدا ہوا۔بچہ کا نام احمد رکھا گیا۔جو جلد ہی فوت قوله يا محمد يا معلمى لا تضر منی فوق حد ہو گیا۔جناب علی محمد اس سے اس قدر متاثر ہوتے کہ گھر چھوڑ کر کربلا چلے گئے اس وقت ان کی عمر چوبیس سال کے لگ بھگ تھی۔چنانچہ محين (الكواكب من ؟ کہ بیان میں خود باب کے بیانات سے ظاہر ہے کہ اس کے استاد کا نام محمد تھا۔چنانچہ باب کہتا ہے کہ اے میرے استاد مجھے مقررہ تعداد سے زیادہ نہ مارت لکھا ہے :- وفى اثر ذلك رحل حضرته الى كربلاء وكان عمره اذذاك يناهز الرابعة و