بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 53 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 53

۱۳ ١٠٢ سوچتے تھے کہ اس قدر بلندی د برتری اور فہم و ادراک رکھتے ہوئے ان سے ایسا کام ظاہر ہوا یعنی ذات شاہانہ پر جرات سے حملہ کرنا۔پھر اس مظلوم نے ارادہ کر لیا کہ قید خانہ سے نکل کر یا پوری تبت کے ساتھ ان لوگوں کو تہذیب و شائستگی سکھانے کھڑا ہوگا۔" (لوح این ذئب ملا گویا بہاء اللہ نے طہران کے قید خانہ میں ہی بابیوں کی سرداری کے لئے کھڑا ہونے کا قدیم کر لیا تھا۔لیکن بغداد میں جا کر نا سازگار حالات کی وجہ سے وہ اپنے خیال کو دبائے رہے اسی دوران میں وہ سلیمانیہ کے پہاڑوں میں اچانک چلے گئے اور دو سال تک نہایت خستہ حالت میں پھرتے رہے خود لکھتے ہیں :- ایه مظلوم ہجرت دو سالہ سے جس میں پہاڑوں اور بیابانوں میں رہا اور بعض لوگوں کے سبب جو مدت تک بیابانوں میں تلاش کرتے رہے دارالسلام انتعداد ، واپس آیا ہے د اوج این ذئب اردو اب معزز سامعین خود غور فرمائیں کہ وحی کے متعلق مندرجہ بالا عقیدہ رکھنے والا انسان جب ان حالات سے دو چار ہو گا اور وہ دعوی کرنا چاہیگا تو کیا دھوئی کرے گا ؟ یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ ہابیوں میں سے کم از کم پانچ آدمی بہاء اللہ سے پہلے من يظهره الله کا دعوی کر چکے ہیں۔پروفیسر براؤن نے اُن کے نام و حالات لکھتے ہیں۔وہ نام یہ ہیں۔ران مرزا اسد الله تبریزی (۲) مرزا عبدالله غوشفاء (۳) حسین میلانی (۴) سید حسین بندیانی (۵) مرزا محمد زرندی : مقدمه نقطة الكاف مب) جناب بہلہ اللہ کے دخوئی کی نوعیت کے سلسلہ میں ان کی کتاب القان" کا یہ حوالہ کسی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔جناب بہاء اللہ ایقان میں لکھتے ہیں :- وفقنا الله واياكم يا معشر الروح لعلكم بذلك في زمن المستقات توفقون ومن لقاء الله في آيا مه لا تحتحبون لایقان ما ترجمہ :۔اسے روحانی جماعت ار یعنی با بی صاحبان الله ہم کو اور تم کو زمانہ مستفات میں توفیق بخشے کہ ہم اللہ کے ظہور کے ایام میں اس کی ملاقات سے حجاب میں نہ رہیں۔لفظ المستغاث کے عدد ۲۰۰۱ ہیں۔اسلئے پانی لوگ بہاء اللہ کو اس کا مستحق نہیں مانتے۔مگر ہمارا مدعا یہ ہے کہ جناب بہاء اللہ اپنے مخصوص عقائد کے ساتھ ساتھ اپنے دیوی کے لئے میدان تیار کر رہے تھے۔لیکن بغداد او المستفات کے خرد ۲۰۰۱ میں منہ نے