بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 106
بہائی شریعت میں صرف باپ کی بیو یوں ہے ؟ کی تعلیم یوں بیان کی ہے کہ صرف ایک بیوی کی اجازت ہے۔اسی بناء (4) چھٹی خصوصیت ا نکاح کرنا حرام لکھا ہے باقی کسی عورت سے ہر عصر جدید عربی میں لکھا ہے۔نکاح کی حرمت کا ذکر موجود نہیں۔اقدس" میں لکھا ہے:۔قد حرم عليكم ازواج أيا لكم انا نستحي ان نذكر حكم الخلمان (۲۳) کہ تم پر اپنے باپوں کی بیویاں حرام کی گئی ہیں۔ہمیں شرم آتی ہے کہ لڑکوں کے بارے میں حکم کا ذکر کریں۔بھائی شریعت محرمات وغیرہ کے ذکر کے اعتبار سے انسانی دماغ کی ہے لیبی کی منہ بولتی تصویر ہے۔کیا اس طریق سے بہاء اللہ نے ایران کے بعض ان پرانے فرقوں کی تعلیم کا احیاء تو نہیں کیا جو لڑ کی اور بہن تک سے تعلقات زوجیت کے قائل تھے ، حکم الغلمان کے عدم ذکر کا بھی عجیب عذر بیان کیا ہے۔قرآن مجید اپنی دیگر تعلیمات کی طرح محرمات نکاح کے بیان کرتے؟ میں بھی ہر طرح سے جامع اور مکمل ہے۔ے، ساتویں خصوصیت جناب بہاء اللہ نے حکم دیا ہے۔آیا کم ان تجاوزوا عن الاثنتين (۳) کہ دو بیویوں سے زیادہ نکاح میں مت لاؤ۔اس میں جناب بہاء اللہ نے دو بیویوں تک بغیر کسی قید و شرط کے اجازت دی ہے ؟ (خود جناب بہاء اللہ کی تین بیویاں تھیں جیسا کہ ہم تحریک بہائیت کی تاریخ والے مقالہ میں بتا چکے ہیں ، جناب عبد البہاء نے مغربی ممالک میں جا کہ بہائیت ان البهائية تنهى عن تعدد الزوجات که بهائیت تعدد ازواج کو منع قرار دیتی ہے۔بھائی مورخ لکھتا ہے :- نبایده دانست که تعدد زوجات در امر بانی مطلوب نیستند و اگر چه تاد و از داج برائے ہر مرد در کتاب اقدس تجویز شده ولی مقید بعدالت است و حضرت علیه مسلم که بین کتاب است فرموده که چون عدالت مرد نسبت بدو توجه امر محال است لهذا ا ولی قناعت بواحده است ترجمہ :۔جاننا چاہیے کہ بھائی ازم میں تعدد زوجات مطرب نہیں۔اگر چہ کتاب اقدس میں ہر مرد کے لئے دو جو بھیل تک کی اجازت ہے مگر وہ عدل کے ساتھ تعقید ہے اور عبد الہند نے جو کتاب کی تفسیر کے حوالے ہیں۔کہا ہے کہ چونکہ مرد کا دو بیویوں میں عدل کر سکتا محال ہے اسلئے ایک پر ہی قناعت کرنا درست ہے۔اس بیان میں مرزا حب الحسین صاحب نے یہ تشریح کل کا بیانی کی ہے کہ القدس میں تو بیویوں کی اجاز تے عمال کی شرفات مشروط ہے، انہیں کی عبارت آپ کے سامنے ہے اس میں نہیں یہ نشتر فر مو نبود نہیں جناب عبد البهاء الترکی نے یہ کیکر که نداشت مرد نیست بود زوجه