بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 100 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 100

194 197 لیکن غیر بانی کا یہ حال ہے کہ وہ اگر ہزار مرتبہ بھی سمندر میں وزانہ غسل کرے تب بھی اسے جسمانی طہارت حاصل نہیں ہو سکتی۔(۵) باب نے اپنی کتاب البیان کے پانچویں واحد کا پانچواں باب بائیں عنوان شروع کیا ہے :- الباب الخامس من الواحد الخامس في بيان حكم اخذ ا موال الذين لا يدينون بالبيان ر حکم رده ان دخلوا في الدين الا في البلاد التي لا يمكن الأخذ کہ اس باب میں یہ حکم بیان کیا جائے گا۔کہ جو لوگ البیان کو نہیں مانتے ان کے اموال چھین لئے جائیں۔سوائے ایسے علاقوں کے جہاں یہ چھیڑنا ممکن نہ ہو۔ہاں اگر بعد ازاں ره با بیت میں داخل ہو جائیں، تو ان کے مال واپس دیئے جا سکتے ہیں۔(4) بابی شریعیت کا ایک حکم یہ ہے کہ جو شخص ایک سو شتقال سونے کی قیمت کا مالک ہو اس پر فرض ہے کہ انیس مثقال سونا باپ اور اس کے اٹھارہ مریدوں (حروف الھی کو دے۔اگر یہ مر چکے ہوں تو وہ سونا اُن کی اولاد کو دیا جائے۔او آمد بات ) نیز با بی قانون ہے کہ ہر چیز کا اعلیٰ کے باپ کے لئے، اور در مبانی اس کے خاص اصحاب کے لئے اور ادنی درجہ عام مخلوق کے لئے ہوگا۔رواہ بات) (6) باب نے لکھا ہے :- قد فرض على كل مالك يبعث في دين البيان ان لا يجعل الحمد على ارض متن لم يدن بذلك الدين وكذلك فرض على الراس كلهم اجمعون الأمن يتجر تجارة كلية ينتفع به الناس : (واحد - باب کہ ہر بابی بادشاہ کا فرض ہے کہ اپنے ملک میں کسی مہربانی کو نہ رہنے دے۔یہ امر تمام بابیوں پر بھی فرض ہے۔ہاں۔ایسے شخص کو اجازت ہوسکتی ہے جو عام نفع کی تجدید کرتا ہے (۸) بابی شریعیت کا ایک حکم یہ ہے کہ جو شخص باب یا اسکے بعد بالی موعود کو رنج پہنچائے اس کو قتل کر دنیا عین فرض ہے۔اس کے قتل کے لئے ہر ممکن حیلہ اختیار کرنا چاہیے۔دالبیان واحد بائی) (9) باب نے حکم دیا تھا کہ بابی لوگ ہمیشہ کرسی یا چھار پائی پر بیٹھا کریں۔اس حکم کی حکمت باب نے یہ بتائی ہے کہ اس طرح یار انکی عمریں دراز ہونگی۔کیونکہ کرسی وغیرہ پر بیٹھنے کا زمانہ میں شمار نے ہم صحیح نقل کے ذمہ دار ہیں۔اصل کتاب میں الفاظ کے غلط ہونے کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔(ابو العطاء)