بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 86
١٧٩ ترجمہ :۔یہ نہ منسوخ ہونے والا کلام ہے اس میں کسی قسم کی غیر سنجیدگی یا ہے اصولی نہیں۔عربی لغت میں لکھا ہے : آمره با موفصل: اى لأربعة فيه ولا مرد کو جو قطعی اور اٹل بات ہوتی ہے اُسے فصل کہتے ہیں۔قرآن مجید کو فصل کہنے کے معنے یہ ہیں کہ یہ قائم رہنے والی کتاب ہے۔(14) إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وير المُؤْمِنِينَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُونَ الطَّلِعَتِ ان لَهُم اجرا كبيرا دبنی اسرائیل : 9) ترجمہ : یقینا یہ قرآن ان طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور و تعلیمات پیش کرتا ہے، جو ہر زمانہ میں صحیح اور قائم رہنے والی ہیں۔اور وہ نیک اعمال بجالانے والوں کو بشارت دیتا ہے کہ ان کو بڑا اجر ملے گا " اس آیت میں لفظ اقوم، قائید سے اہم تفصیل ہے جسکے معنے دائمی اور ثابت رہنے والے کے ہوتے ہیں۔قام على الامر : دام وثبت را قرب الموارد) قام عندهم الحق : ثبت ولم يبرح ومنه قولهم اقامر بالمكان هو بمعنى الثبات (لسان العرب) زمحشری کہتے ہیں۔قام علی الامر دا مرد ثبت مالفلان قيمة ، ثبات ود و امر على الاصرا اساس البلاغۃ، پس قرآن مجید کی تعلیمات کو اقوم کنے سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم دائمی شریعت ہے۔(16) وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتب رَبِّكَ لَامُبَدِّلَ لِكَلِمَتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَعَدَّاه الكف : ٢٤) رجمہ تو اپنے رب کی اس کتاب کی تلاوت کیا کر جو تجھے پر وجی ہوتی ہے۔اس کے کلمات و احکام کو کوئی تبدیل کر نیوان نہیں اور تجھے اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہ ملے گی یہ اللہ تعالے نے مومنوں کو یہی حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی عادت کریں، اس پر عمل پیرا ہوں اور یہ یقین رکھیں کہ یہ کتاب ناقابل تنسیخ ہے۔یہ دائمی شریعت ہے اور آخر کار نسل انسانی کو دنیا کے امن و امان اور روحانیت کی تلاش کے لئے اسی کتاب کی آغوش میں پناہ لینی پڑے گی۔اور خدائے قرآن ہی ان کا عمجا و ماوئی ہو گا۔(۱۸) جَعَلَ اللهُ الكَعْبَةَ البَيْتَ الحَرَامَ قِيَامًا لنَّاسِ وَالشَّهْرَ الحَرَامَ وَالْهَدَى وَالْقَلَائِد لك لتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمُهُ (المائدة : 96) تر جمہ۔اللہ تعالے نے کعبہ کو لوگوں کے لئے قوت والا گھر اور ہمیشہ قائم رہنے والا قبلہ بنایا ہے۔ایسا ہی اس نے قوت والے