بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 63 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 63

١٣٣ پھر بیان کیا کہ :- مسجود نقش کتاب الله مخصوص مقام اعلمی در وضته عبار که علیا وبیت مبارک است دیگر سجود بھتے جائز نہ۔کہ خدا کی کتاب میں رجس سے مراد بہاء اللہ کی کتاب ہے، سجدہ کرنا تین جگہوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ایک مقام اعلیٰ کا معدہ رجو علی محمد باب کی قیر کی جگہ ہے ، دوسرے بیاء اللہ کے روضہ کا سجدہ تیرے بہاء اللہ کے گھر کا سجدہ۔اور یہ کہ ان تینوں جنگوں کے سوا کسی اور طرف سجدہ کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔بھائی دیوان نوش میں بہاء اللہ کی قبر کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے ؟ جو خاک آستان تو مسجود خلق نیست اسے سجدہ گاه جان دروان روضته بهار کہ اسے روضہ بہار جو میری سجدہ گاہ ہے۔تیرے آستانہ کی خاک کے سوا اور کوئی آستانہ نہیں ہے جس کو مخلوق سجدہ کرے۔پھر لکھا ہے گردید انبیاد همه ساخبار بر این تراب اے قبلہ گاہ کر و بیاں روضہ بہاء کہ اسے روضہ بہا، جو تمام مقرب فرشتوں کا قبلہ گاہ ہے تمام انبیاء نے بھی تیرے اس آستانہ کی سٹی پر سجدہ کیا ہے۔پھر اسی دیوان نوش کے مال میں لکھا ہے ہے اے مقصد و مقصود زمان روضه ایی اے معبد و معبود کہاں روضہ ابھی اسے معنی اسرارِ نہاں روضہ ایسی اسے سجدہ گر عالمیاں روضہ ایسی کہ اسے بہاء اللہ کے روضہ جو زمانہ کا مقصود اور مراد ہے۔اور جہان کی عبادت گاہ اور لوگوں کا معبود ہے اور اسے روضہ جو تمام پوشیدہ اسرار کی مراد اور مطلب اور دنیا کا سجدہ گاہ ہے۔پھر ایک اور بات دیکھنے والی ہے کہ اس بارے میں بہائی کیا تعلیم دیتے ہیں۔بالٹی مور اور کلو لینڈ کے بہائیوں سے عبدالہا نے کہا تھا :۔دالف، چون بارض مقدسه رسم سر بر آستان رومنه مبارکه نهم و هویه کنان از برائے شما با طلب تائید کنم کہ جب میں واپس مکہ جاؤں گا تو میں بیاء اللہ کی یر کی چوکھٹ پر سر رکھ کر اپنے بال نوچتے ہوئے تم سب کے لئے مدد مانگو نگا یہ وبدائع الآثار جلدا من (ب) چون بر وضنه مبارک رسم سربی استان گذارم و بیت هر یک از دوستان رجائے تائید کنم کہ جب میں بہاء اللہ کے روضہ پر پہنچوں گا تو اپنا سر اس کے دروازہ پر رکھ کر تم سب دوستوں رسائیان کلولینڈ کے لئے مدد کا خواستگار ہوں گا یہ