بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 48 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 48

۹۲ ایک چھوٹی سی جماعت نے میر زاینی کی سرکردگی میں نہایت شدت سے اس کی مخالفت کی اور آپ کے مابینے کی سازشوں میں آپ کے پرانے دشمن شیعوں سے جاملے : (عصر جدید ارد و ص۳) اس وقت ہم صرف جناب مہارا اللہ کے خونی کی چھان بین کرنا چاہتے ہیں۔آج کے اس مقالہ کا مدعا صرف یہ ہے کہ جناب بہاء اللہ کے دعوئی کا تعین کیا جائے۔اسلئے اس وقت ہم اس دعونی کے دیگر نتائج واثرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔سو عرض ہے کہ جہاں تک ہم نے بھائی لڑ پچر کا مطالعہ کیا ہے۔جناب بہاء اللہ کے دعونی کی نوعیت خواہ کچھ متعین ہورہ بہر حال نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔بہائی صاحبان بھی اس کو نبوت کا دھوئی قرار نہیں دیتے بلکہ نبوت سے بالا کوئی اور چیز ٹھراتے ہیں۔چنانچہ بھائی مبلغ ابو الفضل صاحب لکھتے ہیں :- اینکه جناب شیخ گمان فرموده اند که شاید دعائے ایشان ادعائے نبوت باشد محض وہم و گمان خود جناب شیخ است و ہر کسی با این مساء معاشر و یا از کتب این طائفه مطلع باشد میداند که نه در امواج مقد سر ادعائے نبوت دارد شد و نه براسنده ابل بها و لفظ نبی برآن وجود اقدس اطلاق گشته " (الفرائد مثل) ترجمه در شیخ عبد السلام کا یہ خیال کہ باپ اور بہاتے دعوی نبوت کیا ہے سراسر وہم و گمان ہے ہر شخص جو بہائیوں ۹۳ سے واقف ہے یا ان کی کتابوں پر اطلاع رکھتا ہے خوب جانتا ہے کہ نہ الواج میں دھوٹی نبوت پایا جاتا ہے اور نہ اہل بہار نے کبھی باب یا بہاء اللہ کے لئے لفظ نبی کا استعمال کیا ہے " بہائی رسالہ کو کب مہندمیں لکھا ہے:۔نہ تو آیہ مبارکہ میں نبی کا لفظ ہے نہ فرقان کے موجود کو نبی کہا گیا۔نہ اہل بہاء حضرت بہاء اللہ حیل ذکر ولا اعظم کو نبی مانتے ہیں۔اور کو کب مہند میں بارہا اس کا اعلان کیا جا چکا ہے۔در سالہ کو کب مہند دہلی جلد ۳۶ ، ارمٹی للہ) بھائیوں کی کتاب البهائية مطبوعہ مصر میں لکھا ہے :- ان حضرة البهاء وحضرة عبد البهاء و حضرة الباب لم يدع احد منهم النبوة ( البهائية منت) اہلحدیوں کے بہت بڑے عالم مولوی ثناءاللہ صاحب امرتسری نے پہلے لکھا تھا کہ بہاء اللہ مدعی نبوت تھے۔اس پر جب انہیں جماعت احمدیہ کی طرف سے توجہ دلائی گئی اور ان کے سامنے اہل بہاء کے حوالہ جات رکھے گئے اور ادھر سے بہائیوں کے وصالہ کو کتب ہند نے بھی اعلان کر دیا کہ ہم بہاء اللہ کو بی نہیں مانتے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے اخبار میں لکھا کہ : ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ کسی انسان کے لئے رہے بڑا عرفی نبوت اور