بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 45 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 45

AL AY کر دست گی۔لیونڈ انیٹ خدا کی اور ہا تھ خدا کا ہے" درکشتی نوح منت حضرات ! جب بہاء اللہ اور بہائیوں نے اپنے مخالفوں کو ملعون ، کافر، اتمی، دھتکارا ہوا شیطان، مکار ، فاجر، کتاب، شریں بھیڑ ہے، تیسرا مقاله جناب یا اللہ کے دعوی کی نوعیت قبایل ، مردود اور دجالی تک لکھا ہے تو اب جناب شوقی افندی کا بہاء اللہ کے مدعی الوہیت ہونے کے واضح ثبوت یہ کہنا کیونکہ درست ہو سکتا ہے۔کہ اب کسی کو کا فرکنار وانہیں ہے یہ محض مغالطہ ہے۔معوز هانترین ! آج رات کے لیکچر کا عنوان جناب بہاء اللہ کے دعوئی برھائی بھائیت کے عقائد اور تحریک احمدیت کا موقف آپکے سامنے کی نوعیت مقرر کیا گیا ہے۔مضمون اپنی ذات میں نہایت اہمیت رکھتا ہے خود انصاف کر کے فیصلہ فرمائیں۔واخر دعوننا ان الحمد لله ربّ العلمين : ہے اس کی اہمیت بھائیت کے فقط نگاہ سے بھی اور منہ ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک بسام اللہ ہی وہ وجود ہے جوسب کچھ ہے۔سب انبیاء کا وہی مقصود ما ہے اور ساری کائنات کا دہی مسجود ہے۔اس کے انکار سے انسان مشترک محروم از لی اور تین جہتم قرار پاتا ہے۔بہائیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے نقطہ نظر سے بھی یہ مضمون غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ بہاء اللہ کا دعوی ہی تہائی تحریک کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔اپنی ہم نے اور ہم نے بالی اور بہائی تحریک کی تاریخ کے مضمون کے سلسلہ میں اپنی اس مشکل کا ذکر کیا تھا کہ باہیوں اور بہائیوں کی کتابیں کم یاب بلکہ نایاب ہیں۔اور غیر بانیوں کے نشان کتب کا حصول کوئی آسان کام نہیں اس لئے بھائی تحریک کی تاریخ مرتب کرنا ہی خاصہ مشکل کام ہے۔تاہم تم نے سارے واقعات