بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 44
بیٹھنے اور ان کی باتیں سننے سے بھی بہائیوں کو بند کر رہے ہیں لکھتے ہیں :- قل اياك الاتجتمع مع اعداء الله في مقعد ولا تسمع منه شيئًا ولويتلى عليك من آيات الله العزيز الكريم ، لان الشيطان قدضل اكثر العباديما وافقهم في ذكر بارثهم با على ما عندهم، كما تجدون ذلك في ملأ المسلمين بحيث يذكرون الله بقدو بهم والسنتهم ويعملون كل ما أمروا به، وبذلك ضلوا وصلوا الناس ان انتم من العالمين : الواح بلکہ ملا - ۳۶۱) آخر میں میں اس مختصر مقالہ کو پیش کرتے ہوئے بہائی صاحبان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے ان عقائدہ پر نظر ثانی فرمائیں۔اور کلمانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ برائیوں کی محض اُلجھی ہوئی تاویل کے اور ان کے مہم بیانات پر اعتماد کرنے کی بجائے اُن کے اصل بانیوں کی تحریرات کا مطالعہ کریں۔ان کی روشنی میں انہیں فور اسمجھے آجائے گا کہ بہائی تحریک اسلام کے لئے کس قدر خطرناک تحریک ہے اور ایسا ہی وہ جماعت احمدیہ کے عقائد پر چھلتی ہوئی نظر ڈالنے سے ہی اندازہ کر سکتے ہیں کہ بہائیت کے نہر کا تو باق صرف احمدیت میں ہے۔جب بہائیت کی طرف سے قرآن کو منسوخ کرنے اور اسلام کیلئے ایک تاریخ میسج کو پیش کیا گیا تو اللہ تعالے نے اپنے بندے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مین چودھویں صدی کے سر پر سی الاسلام بنا کر مبعوث کیا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- آخر جب کہ بڑے بڑے صدمات السلام پر وارد ہو کر تیرھویں صدی پوری ہوئی اور اس منحوس صدی ہیں ہزار ہا قسم کے اسلام کو زخم پہنچے اور چودھویں صدی کا آغاز شروع ہوا تو مترو تھا۔کہ خدا تعالے کی قدیم سنت کے موافق موجودہ مفاسد کی اصلاح اور دین کی تجدید کے لئے کوئی پیدا ہوتا ہوا گر چہ اس ماجد کو کیسا ہی تحقیر کی نظر سے دیکھا جائے مگر خدا نے خاتم الخلفاء اسی اپنے بندے کو ٹھہرایا۔دشمہ معرفت مراس) پھر تحریر فرماتے ہیں :- مجھے بین چودھویں صدی کے سر پر جیسا کہ مسیح ابن مریم چودھویں صدی کے سر پر آیا تھا مسیح الاسلام کر کے بھیجا اور میرے لئے اپنے زیر دست نشان دکھلا رہا ہے۔اور آسمان کے نیچے کسی مخالف مسلمان یا یہودی یا عیسائی وغیرہ کو طاقت نہیں کہ ان کا مقابلہ کر سکتے۔اور خدا کا میا بلکہ عاجز اور ذلیل انسان کیسے کر سکے۔یہ تو وہ بنیادی اینٹ ہے جو خدا کی طرف سے ہے۔ہر ایک جو اس اینٹ کو توڑنا چاہے گا وہ توڑ نہیں سکیگا۔مگر یہ اینٹ جب اس پر پڑے گی۔تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے