بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 42
AI جناب شوقی آفندی و کفر و ایمان بابانی تحریک کی اختیاری این انسان به بارانی میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک زرہ زیادہ کیے یا ترک فرائی اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ ہے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَا إِلهَ إِلا الله محمد رسول لله اور اسی پر مریں۔اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جنکی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے۔ان سب پر ایمان لاویں۔اور میوم و صلوۃ اور زکوۃ اور وحج اور خدا تعالئے اور اس کے بھول کے مقرر کرده تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھے کہ ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں الغرض وہ تمام امور جن کے سلف صالح کا اعتقادی اور عملی طور پرا جماع تھا اور وہ امور تو اہل سنت کی اجتماعی رائے سے اسلام کھاتے تھے ان سب کا ماننا فرض ہے۔اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ ہی ہمارا مذہب ہے۔اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگا تا ہے وہ تقوی اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر اترا کرتا ہے اور قیامت میں ہمارا اس پر یہ دھونی ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم پانچویں پارے سے اس قول کے دل سے ان اتوالی کے مخالف ہیں۔الا ان لعنة اللہ علی الکاذبین والمفترين۔ر ایام السطح نشته یوم جریج میں تحریر فرماتے ہیں :۔پلے ادیان میں دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا ہی ہوں کا فریکن آج کوئی فرق نہیں ہے۔کسی کو ایک دوسرے کو کافر سمجھنے کا حتی حاصل نہیں ہے۔آج اس منا نے سب کو اپنی رحمت کے سمندر میں غوطہ دے دیا ہے۔(رسالہ اشراق یوم بدیع مث) اس عبادت میں بہائیوں کے موجودہ زعیم نے بہائیت کا جو امتیازی عقیدہ پیش کیا ہے وہ معنی ظاہر داری کی حیثیت رکھتا ہے۔بعض دفعہ بہائی اس قسم کی تحریرات کو پیشیں کر کے عامتہ الناس کو مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس بارے میں جناب بہاء اللہ، جو اصل بانی سلسلہ ہیں۔کی چند تحریرات احباب کے گوش گزار کی جائیں سو وہ یہ ہیں ان وهذا يوم قد ربح فيه المقربون و المشركون في خسران مبین (مجموعه اقدس ملك یہ دور ایسا ہے کہ اس میں مغرب ماننے والے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور مشرک کھلے خسارہ میں ہیں - قل يا ملعون انك لو امنت بالله لم كفرت بعده وبهائه ونورة رضيائه و سلطنته وكبريائه و قدرته واقتداره