بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 38
۷۲ بہاء اللہ کہتے ہیں۔وزین بطراز الختم وانقطعت به نفحات الوحی الواح مبارکه هشتی، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔اس بناء پر بہائیوں کے نزدیک آئندہ لفظی وھی بند ہے اور ان کے پانی فرشتوں کے نزول کا تصور بھی موجود نہیں۔چنانچہ پانی کے متعلق لکھا ہے:۔و دعا هذه الكتب صحفا الهامية وكلنا فطرية ولدي التحقيق علم انه ليس یدھی نزول الوحی و هبوط الملك عليه" (مقاله سیاح عربی مث ) ترجمہ۔باپ نے اپنی تصنیفات کو الہامی صحیفے اور فطری کلمات قرار دیا ہے تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ باب نزول وحی کے خریدار نہ تھے اور نہ ہی وہ اپنے اوپر فرشتہ کے اُترنے کے مدعی تھے یہ باہیوں اور بہائیوں کا یہ عقیدہ اس طرح بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اُن کے ہاں باپ اور بہاء اللہ اور عبد البہاء کی ساری تحریروں کو العام سمجھا جاتا ہے بطور وضاحت حوض ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے ہاں قرآن مجید خدا کا کلام ہے اور احادیث حضرت نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں اور دونوں علیحدہ علیحدہ ہیں، بہائیوں کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ان کے ہاں عیسائیوں کے مجموعہ ان جیل کی طرح خطوط الواح اور تمام اتوائی الہام اور وحی سمجھے جاتے وہ گویا ایک رنگ میں بہو جو سماجیوں کی طرح وحی ملکہ قطری کو سمجھتے ہیں۔ان کا یہ عقیدہ احمدیوں کے نزدیک غلط عقیدہ ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک لفظی وجی بھی ہوتی ہے۔پہلے بھی ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔حضرت بانی سلسلہ احمد میر جناب سرسید احمد خان کو خطاب کرتے ہو نے تحریر فرماتے ہیں:۔سوال یہ ہے کہ کیا انبیاء کی وحی کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ بھی دو حقیقت ایک ملکی فطرت ہے جو اس قسم کے القاء سے فیضیاب ہوتا رہتا ہے جس کی تفصیل ابھی بیان ہوئی ہے۔اگر صرف اتنی بھی بات ہے تو حقیقت معلوم شد کیونکہ انبیاء کی وحی کو صرف ایک ملکہ فطرت قرار دیکر پھر انبیاء اور اسی قسم کے دوسرے لوگوں میں مایہ الامتیاز قائم کرنا نہایت مشکل ہے۔پھر خود قرآن اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فرق ہے۔اور اسی فرق کی بناء پر حدیث کے الفاظ کو اسی چشمہ سے نکلا ہوا قرار نہیں دیتے جس سے قرآن کے الفاظ نکلے ہیں۔وبركات الدعامل باہیوں اور بہائیوں کے عقیدہ کی رو سے خلافت راشدہ خلفا کے بھی شہ حضرت ابو بگو ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بر حق خلفاء نہ تھے۔یہ عقیدہ باہیوں اور بہائیوں میں شیعوں سے آیا ہے۔اس ضمن میں البیان میں پانچ و جو دوں کو حروف اثبات قرار دیا گیا ہے اور پانچ وجودوں کو حروف نفی قرار