بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 23
۴۲ سرم جمال مبارک سے ملنے کی سخت ممانعت تھی۔میں گاڑی لیکر دوسر مکہ سے قریب ایک میل کے فاصلہ پر ایک باغ پنجی میں رحلت کی وفات) دن در مبارک پر حاضر ہوا اور آپ کو ساتھ لیکر محل درمحمد پاشا کا مصنف بہاء اللہ کی تعلیمات نے چالیس سال قید کی مدت بتانے میں بھی مبالغہ باغیچہ کو بھٹی کی طرف لے گیا۔اور کوئی ہمارا مزاحم نہ ہوا۔میں سے کام لیا ہے۔شاہ سے شہ تک چوبیس سال بیتے ہیں نہ چالیس سال۔آپ کو وہاں چھوڑ کر خود شہر کو آ گیا۔آپ دو سال تک اس جناب بہاء اللہ کی تین بیویاں تھیں (۱) محترمہ نوابه صاحبه دختر خوبصورت اور پیاری جگہ رہے۔تب یہ فیصلہ ہوا کہ آپ بھیجی میں تشریف لے جائیں" (عصر تجدید اردو م) نواب قرآن۔ان سے بہاء اللہ کا نکاح شاہ ہجری میں بٹوار تو یہ صاحبہ کا لقب ام الکائنات ہے۔ان کے بطن سے دولڑ کے عبائی نقدی اور وہاں اصلی حشمت و جلال کے دروازے کھول دیئے گئے ہے میرزا مهدی نیز ایک لڑکی بھائیہ پیدا ہوئے۔میرا احمدی بہاء اللہ کی راليضا ملا زندگی میں ہی چھت سے گر کر فوت ہو گیا تھا۔(۲) محترمہ حمد علیا۔یہ جناب بہاء اللہ کی دوسری بیوی ہیں۔ان کے م وكانت هبات مئات الالون من الاتباع المخلصين قد جعلت تحت يديه اموالا بطن سے چار بچے یعنی تین لڑکے میرزا محمد علی، میرزا بدیع اللہ میرزا طائلة كان يدبرها بنفسه : (عصر جديد عربي من ضیاء اللہ پیدا ہوئے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔اس فارغ البالی میں آپ کیا کرتے تھے اور آپ کا کیا شغل تھا۔لکھا ہے :۔(۳) محترمہ گوہر خانم۔ان سے جناب بہاء اللہ نے قیام پف دار کے آپ کا وقت زیادہ تر عبادت و ذکر و شغل، دعا و مناجات زمانہ میں شادی کی۔ان کے بطن سے صرف ایک لڑکی فروخفیہ خانم زندہ رہی کتب مقدسہ اور الواح کے نزول اور احباب کی اخلاقی باقی بچے فوت ہو جاتے رہے۔(تفصیل کے لئے دیکھو الکواکب الدریہ فارسی اور روحانی تربیت میں گزرتا رہا، اللہ اور عصر جدید فت جلد ۲ عث تاحث ۲۸ مٹی شاہ کو آپ فوت ہوئے۔حشمت اللہ صاحب بہائی لکھتے بہاء اللہ کی وفات پر ان کے بیٹے عبد البہاء جانشین ہوئے۔ان کی لمبی داستان ہے ان کے محادثات اور خطابات نے بہائیت کی شکل ہیں :- سے لیکر تہ تک حضرت بہاء اللہ مکہ ہی بدل دی ہے۔میں قید رہے اور پچھتر سال کی عمر میں چالیس سال کی قید کے بعد بہاء اللہ کی وصیت کے مطابق ان کے بعد ان کے بھائی مرزا محمد علی کو