بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 22
وہ میں ہی ہوں نہ من نظیرہ اللہ " میرا ہی لقب ہے۔اول تو لکھا ہے:۔دا حضرت باپ نے بعض موقعوں پر یہ بھی لکھ دیا تھا۔کہ سب کو سکتہ سا ہو گیا لیکن رفتہ رفتہ قریب قریب سینٹا ئیوں نے میں نے جو شریعت لکھی ہے اس پر عمل کرنے کا حکم اس وقت حضرت بہاء اللہ کو من منظره الله تسلیم کیا۔اور اُس دن سے جنہوں نے حضرت بہاء اللہ کا دعوئی قبول کیا اُن کا نام تم کو ملے گا جبکہ من يظهره اللہ ظاہر ہوگا اور اس شریعت میں سے وہ جس بات کو پسند کریگا اس پر عمل کرنیکا حکم دیگا تے بہائی ہو گیا۔ربہاء اللہ کی تعلیمات ملت) عثمانی حکومت نے ان لوگوں سے نہایت اچھا سلوک کیا۔بہاء اللہ لکھتے ہیں:۔رو ان البيان قد اوحى اليه ممن يظهره الله ( حصر جدید عربی مت) ور حقیقت سلطنت کی طرف سے کمال محبت و عنایت ان مظلوموں کی نسبت ظاہر مشہور ہوئی۔رکوع ابن ذئب مثہ) کا میں جو حالت تھی اس کا نقشہ عبدالہا، آفندی کی مندرجہ ذیل چار عبارتوں کہ باپ پر البیان بہاء اللہ نے وحی کی تھی۔(۳) حضرت مبشر روح ما سواه فداه احکام نازل فرموده اند سے ظاہر ہے :- ولكن عالم امر معلق بود بقبول لهذا این مظلوم بینی را اجرا نمود ا حضرت ہارا اللہ برائے نام قیدی تھے۔کیونکہ سلطان عبد العزیز و در کتاب اقدس بعبارات اخری نازل و در بعضے توقف کے فرمان کبھی منسوخ نہ ہوئے تھے۔مگر حقیقت میں آپ نے اپنی نمودیم (نبذة من تعاليم البهاء من زندگی و سلوک میں ایسی شرافت اور ایساد بہ یہ دکھایا کہ سب آپنکی سایہ کے قریب اور نہ میں بہاء اللہ نے صاف طور پر دھونی کیا تھا۔عزت کرتے اور آپ سے عقیدت رکھتے تھے۔فلسطین کے گورنہ جس سے لوگ بہائی کہلانے لگے۔جیسا کہ حشمت اللہ صاحب بھائی لکھتے آپ کے اثرا اور قوت پر رشک کرتے تھے۔گورنر، متعرف ال جو نیل اور بڑے بڑے افسر نہایت عاجزی سے آپ کی ملاقات کا ہیں :- جب ہابیوں کی حالت ہے سردار کے بہت نازک ہونے لگی۔شرف حاصل کرنے کی درخواست کرتے جو شاذ و نادر ہی آپ منظور تو ایڈریا نویل میں بہاد اللہ نے کہا کہ میں شخص کی بشارت تم کو حضرت فرماتے " ( عصر جدید اردو م ) باب نے دی ہے اور جس کی راہ میں انہوں نے اپنی جان فدا کی ہے ۲۔سلطان عبد العزیز کے سخت فرمان کے باوجود جس میں مجھے