بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 127 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 127

۲۵۱ ۲۵۰ کی روشنی میں یہ مانا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے شجرہ طیبہ میں سے کسی اعلی شیریں پھیل کو پیدا کر یگا اور پھر نئے مسلمانوں میں قرآن مجید سے عشق و محبت پیدا ہو گی اور وہ پھر اس پاک کتاب پر عمل پیرا ہوں گے۔جیسا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی بعثت سے ہوا ہے۔بہر حال آیت دلكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلُ سے نسخ قرآن مجید پر استدلال کرنا سراسر باطل ہے۔پانچویں آیت بہائی۔آیت میثاق النبیستین (سورۃ آل عمران : ۸۱) سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک رسول آنے وال ہے اور سورہ احزاب کی ۷ ۸ سے ثابت ہے کہ میثاق جس طرح اور انبیاء سے لیا گیا تھا اسی طرح آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم سے بھی لیا گیا تھا۔پس یہ موجود رسول ناسخ قرآن مجید ہوا ہو سکتا ہے۔احمدی - جواب اوّل۔سورۃ احزاب میں انبیاء سے جو میثاق لیا گیا تھا وہ اور ہے اور سورۂ آل عمرانی میں ہی معشاق کا ذکر ہے وہ اور ہے۔سورۃ احزاب کئے میثاق غلیظ کے بعد فرمایا ہے۔ليَسلَ الصَّدِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَ اعد للكفِرِينَ عَذَابًا اليماه یعنی اس اقامت شریعت کے میثاق کے بارے میں ان انبیاء کی امتوں سے پورا پورا نتوانی ہوگا اور جواپنے وعدہ میں صادق اور راستبازہ ثابت ہوں گے ان کو اجر عظیم علیہ گا اور جو کا فر قرار پائیں گے وہ دو دناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔پس یہ میثاق تو اقامت شریعت کا میثاق ہے اسلئے اللہ تعالے نے البین کے لفظ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت دولتی و حضرت یلے پانچ انبیاء کا مخصوص ذکر کیا ہے۔کیونکہ یہ انبیاء تشریعی سلسلوں کے باقی یا ان کے اہم آخری نبی تھے۔۔سورہ آل عمران میں آیت کے الفاظ یہ ہیں۔وَإِذْ أَخَذ الله ميثاق النبيِّنَ لَمَا التَكُم مِنْ كِتاو حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولُ مُصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لِ مِن بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ وَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُم عَلى ذلِكة اخرى ، قَالُوا أَقْوَرْنَاء قَالَ فَاشْهَدُوا وأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّهِدِينَ - ترجمہ : یاد کرو جب اللہ تعالٰی نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ میں نے تم کو کتاب و حکمت دی ہے سو اگر بعد ازاں تمہارے پاس ایسا رسول آجائے جو تمہاری تعلیم اور پیشگوئیوں کا معتوق ہو اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی نصرت کرو گے۔فرمایا