بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 125
۲۴۷ ۲۴۶ لحفظون۔اور آئندہ کی جملہ ضروریات کے لئے مکتفی ہونے کا اعلان اس آیت میں فرما دیا۔وَلَا يَا تُونَكَ بِمَثَلٍ الاحسنَكَ بِالْحَقِّ وَاحْسَنَ تَفْسِيرًا (الفرقان) کہ مخالفین کوئی عمدہ تعلیم پشیش نہیں کریں گے مگر ہم اسی قرآن سے اس سے بہتر اور زیادہ مفید تعلیم پیش کر دیں گے۔پس ان چار جوابات کی روشنی میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیت ما ننسخ۔۔۔۔۔۔۔۔میں قرآنی آیات کے منسوخ قرار دیئے جانے کا ذکر ہے۔چوتھی آیت بہائی۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلُ کہ ہر امت کی اجلی مقرر ہے۔پس ضروری ہے کہ امت محمدیہ کی بھی اجل مقرر ہوا اور قرآن مجید منسوخ ہو جائے اور اسکی جگہ نئی شریعت آئے۔احمدی (1) جب قرآن مجید کی صریح آیات سے ثابت ہے کہ یہ شریعیت دائمی ہے اور اللہ تعالے نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے انا نحن نزَلْنَا الَّذِكَرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔تو اس صورت میں آیت لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلَّ سے یہ استدلال کیونکہ ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید مفشوخ ہو جائے گا بلکہ بری ہے استہ حال ہونا چاہیے کہ قرآن مجید پر عمل کرنے والی اقت محمدیہ کی اجل دائمی ہے۔زمین و آسمان کے باقی رہنے تک یہ اقت باقی رہے گی۔(۲) احیائی کے لفظی نے مقررہ گھڑی کے جوتے میں اس مقررہ گھڑی سے ہلاکت اور تباہی کی گھڑی مراد ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس صورت میں آیت کا انطباق آنحضرت صلی اللہ علیہ کام کے مگر تین پر ہو گا۔اور عمومی طور پر تبرا مک مکین پر ہو گا۔آیت کا محل و توخ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔اللہ تعالے فرماتا ہے ، وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أو نَتَوَفَّيَتَكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللَّهِ شَفِيدُ عَلى ما عَنُونَ، وَلِكُلِ اُمَّةٍ رَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ رَسُول قضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ، وَلَيَقُولُونَ متى هذا الوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ، قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَ لَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ احل إذا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَ لا يستقدمون ، ریونس : ۴۶-۲۹) ترجمہ : اے پیغمبر! ر صلی اللہ علیہ وسلم ، خواہ ہم تیرے سامنے وہ بعض وحید پورے کردیں جو تیرے ان منکروں سے کئے گئے ہیں خواہ تجھے وفات دیدیں۔بہر حال ان کا ٹوٹنا ہماری طرف ہی ہو گا پھر یہ بھی ہے