بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 122
۲۳۰ یعنی اس زمانہ میں مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی لا يبقى من الاسلام الا اسمه ولا من القران الا رسمہ کے مصداق ہو جائیں گے۔اسی لئے سورہ سجدہ میں آیت زیر نظر کے بعد تجدید دین اسلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعا لئے فرماتا ہے۔وَقَالُوا ءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الأَرْضِ وَ إِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيد۔کہ کیا ہم پھر نکے طور پر پیدا ہوں گے ؟ پھر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو شمیل موسی قرار دیکر فوایا ہے۔وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةُ يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِايْتِنَا قنون - که بنی اسرائیل کے انبیاء موسوی امر کو بحکم الہی قائم کیا کرتے تھے۔اس میں صاف اشارہ ہے کہ آئندہ زمانہ میں اسلام کی تائید کے لئے بھی مامور ربانی مبعوث ہوں گے اور اسلام کو منعت کے بعد معنوی اور بادی غلیہ دیا جائے گا۔اس پر کفار نے فورا کہا۔منی هذا لفتح إن كنتم صدقین (۲۸) که منتج کب آئے گی؟ اسی سیاق سے ظاہر ہے کہ سورہ سجدہ کی آیت شعر يخرج اليه میں مسلمانوں کی بے تسلی کے وقت قرآنی شریعیت کے منسوخ کرنے کا ذکر نہیں بلکہ یہ ذکر ہے کہ الہ تعالی اپنے فضل سے اس شریعیت کو استحکام بخشے گا اور اس شجرہ طبیقیہ کو تازہ بہ تازہ شہری پھیلی لگیں گے۔(۲) اس آیت میں تقرب الیہ سے مراد مسلمانوں کی لے عملی ہے۔قرآن مجید کا منشور ہو نا مراد نہیں اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یفسر فعل کا ظرف في يوم كان مقداره الف سَنَةٍ مِمَّا تَعد ون کو قرار دیا گیا بنے والا کہ نسخ تو ایک منٹ کا کام ہے۔اس کے لئے ہزارہ سال کی کیا ضرورت ہے۔در حقیقت یہ شروع شریعت قرآنی به تدری با ایک ہزار سال میں ہونے والا تھا۔اس سے صرف یہی مراد ہے کہ مسلمان آہستہ آہستہ قرآن پاک پر عمل ترکی کر دیں گئے يحدد المشه میں مسلمانوں کی ہے اصلی مراد ہے۔تو کسی کا مان یہی ہے کہ مسلمانوں میں قوت نسل پیدا کی جائے۔اور انہیں تزکیہ نفس اور قوت یقین سے صلح کیا جائے تاکہ پر عمرانی شریعت پر عمل پھیرا ہوں۔چنانچہ ایسا ہی ہورہا ہے۔حضرت بانی سلسل احد علیه السلام اسمی از این سد الله تنالے کی طریف سے مبعوث ہوتے ہیں۔اور آپ کی قائم کردہ جماعت پر کام کو ہی میرا کام دست رہی ہے اور ات واخونة مقام کا ظہور پور است (۳) آیت زیر نظر می فرخ ال امید