بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 121
۲۳۹ ۲۳۸ دکھائی اور مسلمانوں کی غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی۔یہ جنگ کفار کے لئے ایک حشر کی حیثیت رکھتی تھی۔(۲) اگر مکان قریب سے مراد فلسطین اور جبل الكرمل ہو تب بھی بہائیت کا اس پیشگوئی سے تعلق نہیں کیونکہ آیت میں مفادی کا ذکر ہے جو بآواز بلند اپنی تبلیغ کرتا ہے لیکن بہائی تو آ جنگ فلسطین میں بھی اپنی شریعت پیش نہیں کرتے۔جمال مبارک تبلیغ را در این دیار حرام فرموده اند امکاتیب عبد البهاء جلد ۳ ص ۳۲) جب بہائیوں کے نزدیک وہاں تبلیغ ہی حرام ہے تو نداء المنادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں جبل الکریمل پر جماعت احمدیہ کا تبلیغی مرکز ہے۔وہاں سے ماہوار رسالہ البشری شائع ہوتا ہے اور مسجد قائم ہے، مدرسہ بھاری ہے پس نداء المنادی کے لحاظ سے یہ آیت بہائیت پر نہیں تحریک احمد نیت پر منطبق ہوتی ہے۔(۳) سورۂ ق کی اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيْد (۲۵) که اے مخاطب تو ہمیشہ اس قرآن مجید کے ذریعہ تبلیغ و تذکیر کرتا رہ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ میں المنادی کا ذکر آیت و استفع يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مان ترتیب میں آیا ہے اس سے وہی شادی مراد ہے جو قرآن مجید کو زندہ کتاب کی صورت میں پیش کرتا ہے اور انسانوں کو اس کے ذریعہ سے تبلیغ کرتا ہے۔جب بہائیت قرآن مجید کو منسوخ قرار دیتی ہے تو وہ اس جگہ مراد کی طرح ہو سکتی ہے ؟ پس ثابت ہے کہ آیت وَاسْتَبِعْ سَيَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ سے بہائیوں کا استدلال سراسر غلط ہے۔دوسری آیت بھائی :- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دبر الامر من السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كان مقدارة الفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (السجدہ : (۵) کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو آسمان سے زمین پر نازل کیا ہے۔پھر یہ دین اسی کی طرف ایک ہزار سال کے عرصہ میں اُٹھ جائے گا۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایکزار سالی کے بعد قرآن مجید کا منسوخ ہونا مقدمہ تھا۔احمدی - (ا) سورہ سجدہ کا سیاق وسباق اس استدلال کی تردید کرتا ہے۔عربی زبان کے لحاظ سے تقوم الیہ کے معنے منسوخ ہونے کے نہیں ہو سکتے۔ہاں اس سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہ قرآنی شریعت کے نفاذ اور تدبیر کے بعد ایک ہزار سال کے عرصہ میں آہستہ آہستہ قرآن مجید پر سے عمل آٹھ جائیں کا