بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 112
۲۲۱ جناب بہاء اللہ نے عبادات میں سے (۱۴) چودھویں خصوصیت از کو منسوج کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔دشمنی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔وہ بھی بہائی تحریک کے مقصد پر روشنی ڈالتا ہے۔جناب بہاء اللہ بھائی کہتے ہیں کہ بہاء اللہ الفت و محبت پیدا کرنے آئے تھے۔مگر وہ نے زوال، صبح اور شام کے وقت نور کتوں کا پڑھنا فرض کیا ہے (ع) مساوات کے سب سے بڑے منظر یعنی نماز با جماعت کو منسوخ قرار ت نماز کے متعلق جو تبدیلی کا حکم دیا ہے۔کو پورا نہ کر دیا تھا ؟ جگر عداوت اسلام بہاء اللہ کے نماز با جماعت پھر کیا ہے۔قد فصلنا الصلوة في ورقة اخرى - اقدس ملا کہ ہم نے نمازہ کی تفصیل دوسرے کا غذ میں کی ہے۔ابھی تک نماز کی تعیین یعنی اس کے نو رکعات ہونے یا نہ ہونے میں بھی بہائیوں میں اختلاف ہے۔جناب بہاء اللہ نے محض اسلام کی مخالفت کیلئے مصلوۃ کسون خسوف کو منع کیا ہے (اقدس عش ۲ ، اور نمازہ جنازہ میں چھ تکبیریں مقرر کی ہیں۔(ت) اسی سلسلہ میں جناب بہار اللہ نے لکھا ہے:۔كتب عليكم الصلوة فرادى قد رقم حكم الجماعة الا في صلوة البيت " را قدس (۲۹) کہ نماز ہمیشہ الگ الگ پڑھو یہ با جماعت نماز منسوخ کر دی گئی ہے بجزہ نماز جنازہ کے یہ بیاء اللہ کا یہ حکم اس ذہنیت کا آئینہ دار ہے جو اس کی وضع کردہ شریعیت کی محرک ہوئی ہے۔کیا نماز با جماعت مضر ہے؟ اس کو منسوخ کرنے کی دے رہے ہیں۔جناب بہاء اللہ نے نماز با جماعت کو منسوخ کر کے انسانی وحدت اور روحانی استحاد کو تفریح سے بدل دیا ہے۔نماز با جماعت کی منسوخی کا حکم بہاء اللہ نے دانستہ دیا ہے۔یا نادانستہ بہر حال اس سے ان کی ذہنیت عریاں ہو جاتی ہے۔جناب عبد البہاء نے جناب بہاء اللہ کے اس حکم کی غلطی ہو محسوس کرتے ہوئے باجماعت نماز کو ترجیح دی ہے بلکہ اس کا حکم دیا ہے۔روزوں کے متعلق جناب بہاء اللہ (۱۵) پندرھویں خصوصیت سے یہ جدت اختیار کی ہے کہ قمری حساب کے بجائے جس سے رمضان ہر موسم میں آجاتا ہے شمسی حساب کے مطابق صرف امیں دن کے روزے مقرر کئے ہیں۔جو ہمیشہ ایک ہی موسم میں آئیں گے۔پھر دوسرا پہلو یہ اختیار کیا ہے۔کہ کہ مسافر اور مریض سے روزے ایسے معاف کر دیتے کہ انہیں تندرست کیا وجہ ہے ؟ اگر کہو کہ خلوت کی نماز زیادہ سوز والی ہوتی ہے تو کیا اسلام نے تجد ، شکن اور نوافل کے علیحدہ علیحدہ ادا کرنے کا طریق بنا کر اس ضرورت اور مقیم ہو جانے پر بھی رکھنے کی ضرورت ہی نہیں (اقدس (۲) اور پھر روزہ کی نوعیت میں یہ قدمت بیان کی کو صرف کھانے اور پہنتے ہے