بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 111
۲۱۹ جناب عبدالہاد اندی لکھتے ہیں:۔حال چون تشکیل بیت عدل عمومی میتر نه قرار شد که ما قبل می روحانی امریکا را در مدت هر پنج سال تجدید انتخاب نمایند کہ چونکہ ابھی تک بیت العدل کا قیام میسر نہیں اسلئے امریکہ کی انجمنیں ہر پانچ سال میں اپنا انتخاب کر لیا کریں۔جو لوگ تقویذ شریعت کو دلیل صداقت کہا کرتے ہیں وہ اس پر غور کریں کہ جناب تمہارا اللہ کی اساسی ایجاد بھی معرض وجود میں نہیں آئی۔حالانکہ یہ کوئی مشکل امر نہ تھا۔بہائیوں کی تازہ کتاب بھائی کمیونٹی میں لکھا ہے :- بت العمل کو نہایت ہی لازمی ادارہ اگر نکال پاچای تو حضرت عبدالہاد کی وصایا مبارکہ کا یہ نظام اپنے عمل میں مفلوج ہو جائے گا۔اور ان جنگوں کو پر نہ کر سکے گا جو کتاب اقدس کے نازل کرنے والے نے جان بوجھ کر آئینی و انتظامی احکام کے مجموعہ میں چھوڑی ہیں۔رہائی کمیونٹی مطبوعہ دہلی ند (۱۳) تیرھویں خصوصیت مذاہب عالم توحید کے قائم کرنے کیلئے آتے رہے ہیں، مگر بہائیت انسان پرستی اور قبر پرستی کی بنیاد پر شروع ہوئی ہے۔جناب بہاء اللہ مدعی الوہیتے تھے جیسا کہ ہم اپنے سابقہ مقالہ میں ثابت کر چکے ہیں۔جناب بہاء اللہ نے بھائیوں کے قبل کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ جون میری طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔جہاں میں مر جاؤں اُدھر ہی قبلہ ہوگا۔اور جب میں مر جاؤں تو میری قرار گاہ یعنی قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔را قدس ۳-۱۵ و ۲۹۴ اس قانون سے ظاہر ہے کہ جناب بہاء اللہ خود نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔کیونکہ وہ تو خو د قبیلہ تھے ، خواہ زندہ ہوں خواہ فوت شدہ۔اگر وہ - نماز پڑھیں تو کس طرف منہ کر کے پڑھیں گے ؟ بہانی جناب بہاء اللہ کی زندگی میں ان کی طرف اور اب ان کی قیر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔لکھا ہے:- قبله ما اپیل نهاد روضه مبارکه است در مدینه ششگانه کہ ہم بہائیوں کا قبیلہ نکا میں بہاء اللہ کی قبر ہے۔(دروس الديانة ص۲۳) بھائی لوگ جناب بہاء اللہ کی تب کو جو نتجہ میں حکم سے کچھ فاصلہ پر ہے) سجدہ کرتے ہیں۔میں نے خود بہائیوں کو اس جیگر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔مرزا حیدر علی صاحب بہائی سھتے ہیں :- زائرین زیارت و طواف تقبیل و سجده علیه مقدسه اش نموده و نمائندہ اندیا رینجر الصدور مش ۲ پس بہائی شریعت قریتی اور مردم پوستی کی تلقین کرتی ہے۔اور بہائیت انسان کو ترقی کی بجائے پرانے شرک کے گروتھے میں