بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 107 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 107

۲۱۰ امر محال است ثابت کردیا کہ اگر جتنا بے بہاء اللہ نے عدل کی قید لگائی سبد تو عقول عبد البناء انھوں نے بے معنی بات کی ہے۔کیونکہ عدل کا تو امکان ہی نہیں تھا اور نہ ہے۔اندریں حالات ہمارا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ بہائی شریعیت مردم کی ناک سے ہے جناب عبدالہاد اور ان کے ساتھی زمانہ کی روش کے مطابق جانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔یہ بات بہائی انزم کی خصوصیت ہے۔کہ جناب بہاء اللہ کے تو انین کو توڑنے کے لئے ان کا بیٹا کھڑا ہوا ہے۔اور اس نے برملا ان کے بناتے ہوئے قاعدوں کو رد کیا بنے۔قرآن مجید نے عدل کی شرط اور پابندی کے ساتھ تعدد زوجات رچا کہ کہ کی اجازت دی ہے اور اس کی حکمت یوں بیان فرمائی ہے۔جناب بہار اللہ نے محض قرآن بید سے اختلاف کی خاطر فَانكِحُوا مَا لَهَاب ركُم مِّنَ القِسَاء مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبع کے خلات اتیا کہ ان تجار ز دا عن الأنتين کر دیا تھا جسے ان کے بیٹے نے تبدیل کر دیا۔بہائی شریعیت میں عفت و سمت کی حفاظت قائل نہیں۔عصر جدید عربی مشا، قرۃ العین نے خراسان میں جس بے پردگی کا آغاز کیا تھا وہ پانی انتہ بھائی عورتوں کا طغرائے امتیاز ہے۔جس طرح قرآن حکیم نے مومنوں اور مومنات کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر محرموں کے دیکھنے سے انکھیں بھی رکھیں ایسا کوئی حکم بہائی شریعت میں پایا نہیں جاتا جناب آپ نے حکم دیا تھا کہ صرف نوجوان لڑکے اور لڑکی کی رضا مندی سے نکاح ہو جانا چاہیئے۔جناب بہاء اللہ نے اس میں اتنی ترمیم کی ہے کہ جب پہلے لڑکا اور لڑائی آزاد از محمد پر رضا مند ہو جائیں۔تو پھر بعد ازاں نکاج ماں باپ کی اجازت پر موقوف ہے۔ظاہر ہے کہ اس توسیم سے بلحاظ آزادی تو بات وہی ہیں۔صرف مانی باپ کی پوزیشن کو نازک بنا دیا گیا ہے کیونکہ اگر لڑکے اور لڑکی کی مادہ ہیں کے بعد وہ اجازت نہ دینا چاہیں تو اور مصیبت پڑھے گی۔علاوہ ازیں جناب بہاد اللہ نے اس جگہ ایک اور حکم دیا ہے۔نکات کے بیان پر کھتے ہیں۔" ومن اتخذ بكر الخدمته لا باس عليه : (ف ) کہ جو کوئی کنواری لڑکی کو اپنی خدمت کے لئے رکھ لئے ہیں پر کوئی گناہ نہیں ہے یہ اس حکم کے اپنے موقع کے لحاظ سے تو معنے بالکل واضح نہیں بھی۔کہ ان سے آٹھویں خصوصیت سے لے کوئی معقول قواعد موجود نہیں ہیں۔بہائیت کی تعلیم خطر ناک طور پر کیل از اسم مرتی ہے۔اگر اس کی یہ اقرب دیر عکس ایسی باتیں پائی جاتی ہیں۔جن۔ظاہر ہے کہ جناب بہاء اللہ نے انسانیت اور شرافت کے اس سب سے ایستی موتی کے ساتھ ملا عب اختیار کیا ہے باہمیت اور بہائیت خود قراں کے غیر محرم مردوں سے پردہ کی تسلیم کرلی جائے کہ یہ صرف خاص طور پر کنجاری لڑکیوں کو تر کر رہے۔ہے تب بھی بہائی شریعت کا بار عفت موہانی ہے اور حکم سخت اور اسی ہے۔