بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 60
116 114 سے تائید فرماتے ہیں اور اپنی مدد اور حفاظت کی فوجیں مسلسل فوجوں کی طرح بھیج رہے ہیں۔اگر چہ ہمہ کڑور اور ذلیل اور حقیر ہیں لیکن ہماری پشت پناہ رہی زندہ اور طاقت در جبال الہی ادبیاء اللہ ہیں۔(ص) بدائع الآثار علیدا مری میں لکھا ہے کہ : قدر این جنایات جمال مبارک را بدانیم و بیش گراز قیام به خود بیت نمائیم که در ملاک و ملکوت نصرت و حمایت فرود و هدایت و اعانت نمودی که عبد البہاء نے فرمایا کہ جمال مبارک بہاء اللہ کی ان جو پانیوں کی ہم کو قدر کرنی چاہیئے اور اس کے شکریہ میں کہ جمال مبارک دنیاء اللہ نے ہماری ہر طرح تائید اور حمایت کی اور ہمیں ہدایت دیگر ہماری مدد فرمائی۔ہم کو ان کی اطاعت کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیئے۔۔وفق بدائع الآثار جلد ام لا میں لکھا ہے کہ :۔خدام حضور را احضار فرموده۔۔۔۔۔۔۔يذكر تائیدات و موا سبب جمال قدم اسم اعظم مشغولی و ناطق که این خون و عنایت از قدرت او، و این تائیدات بصرف خود و فضیل اوست ، در نه ما برگه بنده تنصیف نیستم بین نباید و الم بش کرتا یا نقش پرداخت : کہ عبد البہاء نے اپنے اقدام کو اپنے حضور میں بلوایا اور جمال قدم کی تاثیرات اور نتیش کا ذکر شروع کیا اور سرمایا کہ یہ مدد اور عنایت بہاد اللہ کی قدرت سے ہے اور یہ تائیدات محض اس کے فضل اور ریشش سے ہیں۔اور نہ ہم مگر دور اور عاجز بندے ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہمیشہ بہاء اللہ کی عنایات کا شکر ادا کرتے رہیں۔(ط) بدائع الآثار جلد ۲ صے میں لکھا ہے :- پس از جلوس در شکر تائیدات جمال قدم و نصرت و حمایت اسم اعظم نطقے مختصر فرموده = که عبد البهاء جب سفر یورپ سے واپس آئے اور اپنے گھر پہنچے تو انہوں نے میٹھنے کے بعد جمال قدم ربہاء اللہ کی تائیدات فرمانے اور اہیم اعظم ربہاء اللہ) کی مدد اور حمایت کے شکر میں مختصر سی تقریر فرمائی۔ان بارہ حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ جناب بہاء اللہ نے اپنی قوم کے سامنے یہ دھونی پیش کیا تھا کہ میں موت کے بعد بھی حاضر ناظر ہوں گا اور تمہاری مدد کروں گا۔تمہاری دعاؤں کو سٹونگا۔بہائیوں نے اسے درست قرار دیکر اسی کو اپنا معبود اور سمیع الدعوات بان رکھا ہے وہ اسی سے دعائیں کرتے ہیں اور اسی کو اپنا ھائی ناصر مانتے ہیں۔(۱۲) بناب ہے واللہ لکھتے ہیں کہ میں ہی سب اشیاء کا خالق ہوں :-