بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 56
1۔9 1۔^ ا قد ظهرت الكلمة التي سترها الابن انها قد نزلت على هيكل الانسان في هذا الزمان تبارك الرب الذى قداتي بمجده الاعظم بين الأمم کہ وہ کلمہ جسے بیٹے نے پردے میں رکھا تھا وہ ظاہر ہو گیا ہے اور وہ اس زمانہ میں ہیکل انسانی پر اُترا ہے۔مبارک ہے وہ رب جو اپنی عظمت کے ساتھ اچھتوں کے درمیان آیا ہے۔(۲) مجموعہ اقدس منٹ پر لکھتے ہیں :- ذكرى الاعظم ينادي من في الامكان الى الله - مالك الاديان انا بعثناه على هيكل الانسان میرا ذکر سب ممکن الوجود کائنات کو خدا مالک الادیان کی طرف بلا رہا ہے۔ہم نے اسے انسانی ہیکل میں مبعوث کیا ہے بہاء اللہ صاف طور پر لکھتے ہیں :- یا قوم طهر وا قلوبكم ثم ابصاركم لعلكم تعرفون بارتكم في هذا القبيص المقدس (۳) رہا اللميح : کہ اے لوگو! اپنے دلوں کو پاک کرو۔پھر اپنی انکھوں کو پاک کرو تا کہ تم اپنے خالق وباری کو اس پاک اور چمکدار تھیں میں پہچان سکوت (مبین منس) (۳) الواح میں بہاء اللہ رکھتے ہیں :۔انا لو نخرج من القميص الذى لبسناه لضعفكم ليفه يننى من في السماوات والأرض بانفسهم وريك يشهد بذلك ولا يسمعه الا الذين انقطعوا عن كل الوجود حبا الله العزيز القدير ترجمہ :۔اگر ہم اس قمیص کو اتار دیں جو ہم نے محض تمہاری کمزوری کے خیال سے اوڑھ رکھی ہے۔تو مجھ پر سب امین و اسمان والے اپنے آپ کو قربان کر دیں۔تیرا رب یہ شہادت دیتا ہے لیکن اس شہادت کو صرف وہی لوگ سنتے ہیں جو خدائے تو یہ واقعہ یہ کی محبت میں سب موجودات سے منقطع ہو گئے ہیں۔(الواح شت) وہ اپنے ایک شاگرد کو اپنے سے یوں دنیا کہنے کی تلقین کرتے ہیں :۔اسألك بجمالك الاعلى في هذا القميص الدرى المبارك الاعمى بأن تقطعنى عن كل ذكر دون ذكرك یکن تیرے اس جمال اعلی کا جو اس روشن اور بار کی کردار میں میں روشن ہے واسطہ دیکر درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے ذکر کے علاوہ ہر ذکر سے منقطع کرلے۔(الواح مننا) اپنی کتاب اقتدار میں اپنا مقام بایں الفاظ ذکر کرتے ہیں اسے