بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 52
"The time of Bahaullah was spent for the most part in prayer and meditation, in writing the sacred books, revealing tablets, and in the spiritual education of the friends۔" (P۔55) ترجمہ :۔آپ کا وقت زیادہ تر عبادت و ذکر و شغل، دهاد فه ای با کتب مقدسہ اور الواح کے نزول اور احباب کی اخلاقی اور روحانی تربیت میں گذرتان دنیا مالله و عصر جدید ارد و منه خود جناب بہاء اللہ نے شریعت اقدس میں اپنے آپ کو ربت ما برای و مالا یدی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :- قد حضرت لدى العرش عرائض شتى من الذين امنوا و مسئلوا فيها الله ربّ ما يرى وما لا يرى رب العالمين لذا انزلنا اللوح وزيناه بطران الأمر الحل الناس باحكام تهم يعملون وكذلك مثلنا من قبل في منين متواليات وأمسكنا القلم حكمة من لدنا الى ان حضرت كتب من انفس محدود في تلك الأيام لها جبناهم بالحق بما تحي ب القلوب ) نمبر ۲۰۶ و نمبر ۲۱۷) اس تیم عربی کا خلا مطلب یہ ہے کہ چونکہ بہت سے لوگوں نے خطوط کے ذریعہ بارگاہ رب العالمین رباء اللہ میں درخواستیں کیں اور سوالات پوچھے تھے اسلئے اب سالہا سال کے بعد ہم نے یہ کتاب را قدس تصنیف کر دی ہے تاکہ لوگ اس پر عمل کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ جناب بہاء اللہ کا عقیدہ یہی تھا کہ وہ وحی نازل کرتے ہیں اور ان کا ہر قول اور ہر تحریر وحی و الہام ہے۔جناب بہاء اللہ کے اس عقیدہ کے ساتھ ساتھ ہمیں اس ماحول کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے جس میں آپ نے دعوی کیا تھا۔جناب باب کے قتل کے بعد شاہ ایران پر بانیوں کے حملہ کے سلسلہ میں بہار اللہ کو قید کیا گیا۔اس قید سے ان کی ذہنی اور دماغی قوتوں پر بہت برا اثر پڑا تھا وہ لکھتے ہیں:۔والف ارضي طار طران کے قید خانہ میں ٹھہرنے کے ایام میں بیڑیوں کی تکلیف اور بدبودار ہواموں کے باعث نیند بہت ہی کم آتی تھی لیکن بعض اوقات جب نیند آتی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سر کے اوپر سے کوئی چیز سینہ پر گر رہی ہے۔جیسے کوئی بڑی نر بلند پہاڑ کی اونچی چوٹی سے زمین پر گر رہی ہو۔اور اس سیب سے تمام اعضاء میں سے آگ کے آثار ظاہر ہوتے تھے اور اس وقت زبان وہ کچھ پڑھتی تھی جسے سننے کی کسی کو تاب طاقت نہیں دلوح این ذئب اردو منا) اب اس قید خانہ میں دن رات ہم ہابیوں کے اعمال احوال کو