بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 5
Y وہ کہ ایسی تحریکات کے مخالف بھی ہوتے ہیں اور ماننے والے بھی۔عام طور پر مخالف ظاہر ہے کہ ان حالات میں بابی اور بہائی تحریک کی صحیح تاریخ مرتب کرنا اپنے بیانات میں عائدانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور موافقین کی ایک بڑی کثرت مہمان کام نہیں ہے۔مگر چونکہ کسی تحریک کی تاریخ معلوم کئے بغیر اس تحریک کا بغیراس مبالغہ او رخوش اعتقادی سے کام لیتی ہے اسلئے بالعموم مذہبی تحریکات کی صحیح نقشہ سامنے نہیں آسکتا اس لئے ہر حال اس تاریخ کا بیان کرنا تو ناگزیر تاریخ میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔اور ایک محق کے لئے صحیح بات معلوم کرنا ہے۔ہاں ہم نے ایسی احتیاط کر لی ہے کہ بانی اور بھائی صاحبان یہ نہ کر سکیں قدرے دشوار ہوتا ہے۔بالخصوص جبکہ دو تحریک ایسی ہو جس میں اختفاء اور کہ ہماری یہ تاریخ ہمارے دشمنوں نے لکھی ہے اس لئے ہم پر حجت نہیں ہے۔کتمان کا پہلو غالب ہو اور اس کے مانے والے عقیقاً مبالغہ آمیزی کو ترجیح ہم نے اقوام کیا ہے کہ آج شام کے لیکچر میں خود با بی اور بہابی مصادر سے یا کم از کم ان کے مسلمہ مصادر سے تاریخی حقیقت کو اخذ کر کے بیان کیا جائے دیتے ہوں اور اس تحریک کا لٹریچر عام طور پر دستیاب نہ ہوتا ہو۔بانی اور بہائی تحریک کی تاریخ لکھنے میں ایک بڑی دشواری ان لوگوں اور کوئی ایسا حوالہ نہ دیا جائے جسے بابی اور بھائی صاحبان اپنے دشمنوں کی کتابوں کی کمیابی ہے۔چنانچہ قریشی علم اللہ صاحب بہائی کو خود یہ شکایت کی تریہ کہ کر رد کر سکیں۔ہم آج کے لیکھر ہی کوئی ایسا جہادی تاریخی واقعہ بیان نہیں کریں گے جس کے لئے ہمارے پاس بھائیوں اور بائیوں کا اپنا حوالہ موجود نہ ہو۔امید ہے کہ اس صورت حالی سے جہاں بھائی حاضرین کے لئے وجیہ اعتراض نہ رہے گی۔وہاں ہمارے دوستوں کو بھی بابی اور بہائی مصادر سے ان کی تاریخ کا علم ہو جائے گا۔ہے۔وہ لکھتے ہیں :- عام طور پر حضرت باب حضرت بہاء اللہ اور حضرت عبد البهاء کی کتابوں کے کمیاب ہونے کی وجہ سے بعض تاریخی اور تعلیمی غلط فہمیاں پھیلی گئی ہیں۔رسالہ حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات بابی فرقہ باب سے منسوب ہے۔باب کے معنے دروازہ کے ہیں۔کتابوں کی نایابی یا کمیابی کے علاوہ باہیوں اور بہائیوں کی تاریخ کے اثنا عشری اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ ان کے بارھویں امام حضرت محمد بن حسن مطبوعہ عزیزی پولیس آگره صت ) سلہ میں ایک اور وقت یہ ہے کہ خود جناب بہار الہ نے بہائیوں کو حکم عسکری غائب ہیں۔امام غائب تک پہنچنے کے لئے ان کے نزدیک زندہ دے رکھا ہے، اُستر ذهبك وذهابك و مذهب کو تم اپنے انسانوں میں سے ایک دروازہ یعنی باب ہوتا ہے۔حشمت اللہ صاحب بھائی لکھتے ہیں :۔سونے اور آمد ورفت اور مذہب کو مخفی رکھو۔راجر الصد و مطبوعہ مصنفہ میرزا حیدر علی صاحب اصفهانی بہائی مبلغ ) بہت پرانے وقتوں سے ایران میں یہ ڈایت چلی آرہی تھی۔کہ