بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 36
۶۹ ۲۸ پکڑے رہتے۔تو قلعہ دین کی مستحکم بنیاد ہرگز نہ ڈالی کاتی۔اور ہے بسائے شہر کبھی ویران نہ ہوتے۔بلکہ شہر اور کامل امن و امان کی زینت سے مزین اور کامیاب رہتے۔رہاب الحیات مت) -۳- مقالہ ستیاح میں بھی قرآن مجید کو الذكور المحفوظ اور الحيقه الباقيه بين ملاء الاکسون قرار دیا گیا ہے۔لکھا ہے :۔يقول المليك الرحمان في الفرقان وهو الذكر المحفوظ والحجة الباقية بين الاكوان، فتهينوا الموت ان كنتم صادقين فجعل تمنى الالموت برهانا صادقات ر مقاله سیاح ملت۔بہائیوں کی مسلمہ حدیث ہے کہ قرآنی معارف و حقائق کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔چنانچہ لکھا ہے:۔ونقلنا في كتاب الدرر البهية عبارة عن كتاب العقد الفريد جاء فيه ان سيدنا الوصول صلى الله عليه وسلم قال في حق القرآن انه لا تفنى عجائب یہ مجموعہ رسائل مؤلفہ ابو الفضائل من ام اس دیگر ضمنا علامہ ابو الفصل بہائی کا یہ قول بھی ذکرہ کرنا مناسب ہے :- این نکته بر ایل دانش پوشیده نماند که محمود کتاب و جال رکت سے حضرت ذي الجلال در یوم قیام قائم موجود از وجود حمید البيده است ( مجموعه رسائل من ترجمہ : اہل قسم پر یہ نکتہ مخفی نہ رہے کہ اقبال کی کتاب کا ظاہر ہونا اور حضرت ذو الجلال کی کتاب کا ظاہر ہوتا قائم موجود کے وقت میں اللہ تعالیٰ کے حتمی وعدوں میں سے ایک وعدہ ہے۔ان بیانات سے اہل بہار کا یہ عقیدہ ثابت ہے کہ وہ قرآنی شریعیت کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔بھائیوں کے مقابلہ پر تحریک احمد آیت میں عقیدہ کو پیش کرتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل چار بیانات سے ظاہر ہے :- الف ، اب کوئی ایسی وحی یا ایسا العام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی شیخ یا کسی ایک حکم کا تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور محمد اور کافر ہے یہ (ازالہ اوہام فتان) رب تمہاری تام فلاح اور نجات کا سر تیمیہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی اب تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکتب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلاواسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے یہ دکشتی نوح (م۲۳) رج قرآن شریعت کے بعد کسی کتاب کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں