بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 35 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 35

۲۶ شریعت فرقان بظهور مهارکش منسوخ شده و دروس الديانه هنگام باب کی شریعت کو با بی تو آج تک قائم مانتے ہیں۔مگر بہائیوں کا عقیدہ یہ ہے۔کہ البیان بہاء اللہ کی کتاب الاقدس کے ذریعہ سے منسوخ کردی گئی ہے۔اس بارے میں دروس الدیانہ میں لکھا ہے وہ وز این ظهور نسخ نے شدید (اقتدار ) ریہ۔اگر اہل اسلام باب و بہار کے ماننے سے اعراض نہ کرتے اور اُن پر اعتراض نہ کرتے تو اس دور میں قرآنی شریعت ہرگز مفشوخ نہ کی جاتی۔وما بهائیاں رجوعی با حکام بیان باطره نداریم - کتاب دانه بن اس قول سے ظاہر ہے کہ بابیت اور بہائیت کے طور پر مسلمانوں کے اعراض کتاب مبارک اقدس است و دروس الديانة مسار کہ ہمارا کوئی تعلق البیان کے احکام سے نہیں۔ہماری کتاب اقد ہے۔د اعتراض کے پرو کر محض انتقامی رنگ میں نسخ قرآن کا عقیدہ ایجاد کیا گیا تھا اور نہ قرآن مجید وہ شریعت نزاء ہے کہ اس پر عمل کرنے سئے نیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے اور روحانی قصر کی عمارت مستحکم ہوسکتی ہے خود بہاء اللہ بہائیوں کا یہ عقیدہ ہمارے نزدیک سراسر غلط ہے مگر چونکہ ہم نے قرآنی اپنی آخری عمر میں ایک خط میں لکھتے ہیں :۔شریعت کے دائمی ہونے کے موضوع پر اسی سلسلۂ محاضرات میں ایک علیحدہ لیکچر مقرر ہوا ہے اسلئے فی الحال ہم تفصیل سے بہائیوں کے اس عقیدہ کی تردید میں نہیں لکھنا چاہتے۔وقت آنے پر اس کی تفصیلی بحث کی جائے گی مگر اتنا ذکرہ کرنا بہر حالی لازمی ہے کہ بہائیوں کا یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی وحی یا اس کے کام پر مبنی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم کل کے لیکچرمیں ثابت کر چکے ہیں۔حصہ ہیں یا ہیوں نے بدشت علاقہ خو انسان میں ایک کانفرنس منعقد کر کے یا ہمیں نمازش سے قرآن شہید کو منسوخ کرنے کی حکیم تیار کی تھی۔ورنہ در حقیقت جنابت بہاء اللہ کے نزدیک قرآن شریعت اپنی ذات میں ہرگز ہرگز قابل صبیح نہیں ہے۔یاد رکھتے ہیں ایسا ہے اگر اعتراض اعراض اہل فرقان نه بود ہوگا یہ شریعت فرقان۔ان لو استضاء أهل التوحيد في هذه الاعصار الأخيرة بشبراس الشريعة الغراء التي تألقت من خاتم الانبياء دوخ ما سواه له الغداء وتشتتوا با ذيا لها لما تضمطع اركان حضن الأمر وما خربت مدة المعمورة والتطررت المدائن والبلدان والقرى بعدا والأمن والأمان وفقا لسيد علي من اران آفرینی ہو یانہ میں اہل توحید حضرت خاتم النبيين دودی عالم شمار ہوگان پونا کی وفات کے بعد ان کی روشن شریعت پر عمل کرتے اور ان کے وام شریعت کو مضمون