بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 13
۲۳ ۲۲ الشريعة هي المعول عليها إلى ذلك التاريخ لم چنانچہ بھائی تاریخ کی مندرجہ ذیل میں شہادتیں اس بارے میں کانی ہیں : ری مرز اسید علی محمد کے دعونی کو جن لوگوں نے تجا تسلیم کیا تھا ان کا يتغير منها شئ تاریخ بہاء الله من حادثات عبد البهاء ضا) کہ دیکھو اس وقت یا بی لوگ عادات در سوم کا کس قدر خیال رکھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح دو حقائق کو قائم کر رہے ہیں۔اس دن تکیہ اسلامی شریعت پر یہی سب کا دار وسط رتھا اس میں سے کوئی حکم تبدیل نہ ہوا تھا یا علم با بی مشہور ہو گیا۔ان باہیوں کی تاریخ نہایت قابل رحم اور درد ناک ہے کیوں کہ اکثران میں سے ان پڑھ خوش عقیدت سادہ اور پاک باطن آدمی تھے جنہوں نے بچپن سے مسجدوں اور امام بار دی میں امام معصوم قائم آل محمد حضرت محمدی علیہ الصلاة والسلام کا ذکر دل کو بے تاب کر نیو الے فقروں یہ حالت دیر پا ثابت نہ ہوئی پانچ اپنے اتباع کو خاص احکام کی تلقین میں سنا تھا۔اب اگر حضرت باب قید نہ ہوتے تو یہ لوگ ان کرنی شروع کر دی۔یعنی یہ کہ تمام دوسری کتابوں کو جلا دو۔دوسری قوموں کے پاس جا کر خود اُن سے باتیں دریافت کرتے لیکن اُن کے کے مقامات مقدسہ کو گرا دو۔اور جو لوگ باپ کے مومن نہیں ان کا قتل عام پاس جانے کی تو سخت ممانعت تھی۔پس وہ اپنے محبوب کی کرده جناب عبد البہار تحر یہ کرتے ہیں : تعلیمات سے اکثرنا واقف تھے جن کا فی ثبوت ان کی حرکات در یوم ظهور حضرت اعلی منطوق بیان ضرب اعناق و توق کتب و اوراق و بدم بفارغ وقتل عام الا من آمن و اور سکنات سے لتا ہے۔(بہاء اللہ کی تعلیمات ص۱۳۱) (۳) چون نیز اعظم از مطلع بهاء الله در نهایت حرارت و اشراقی پر تو بر آفاق انداخت نفوس جاہلہ اہل بیان که محمود ترین طوائف اند در نقطه نقطه اولی ماندند و از فیض ابدی بهاء الله محروم گشتند۔۔۔۔۔این قوم منتجب ترین طوائف عالمند۔۔۔۔۔و در ظلمت ادام مستغرق انده تبا لهم وسحقاً لهم واحسرنا عليهم وخطابات عبد البهاء جلد اول عدت بود (مکاتیب عبد البهاء جلد ۲ ص۳۶) ترجمہ: کہ حضرت اعلیٰ یعنی باب کے ظہور کے وقت بیان کا خلاصہ یہ تھا کہ گردنیں اڑائی جائیں کتابیں اور اوراقی جدا دیئے جائیں۔مقامات منہدم کر دیئے جائیں اور پھر ایمان لانے اور تصدیق کرنے والے کے قتل عام کیا جائے " تاریخ سے ثابت ہے کہ جناب باب پر ایمان لانے والے ان پڑھا اور شت از برائے او خون خود را نثار نمائیندہ کا عقیدہ رکھنے والے لوگ تھے۔