بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 10
19 العشرين : والكواكب مثلا وارح الجنان تيراعه في وصفه وكيجه على النقيه کہ بات اس حادثے کے مطا بعد قریبا چو نہیں برس کی تقریب والتعرض العقائد الشيعة بل كان يثني عليها و يقرر محتها ومتانتها حتى وجود المنتظر الغائب ر الکواکب ملا) کربلا پہنچے۔اسی موقع پر جناب سید علی محمد اسید کاظم رشتی کے دروس میش شانل ہوئے چنا نچہ مرقوم ہے:۔کر باپ نے امام مہدی اور اس کی صفات کے متعلق نہایت یک سال بعد از تقابل بکر بلا تشریعت پر وہ روتا ہے تفصیل سے بیان کیا ہے اور اپنے قلم کو شیعہ عقائد کی تنقید سے در آنجا توقفت فرمودند گا ہے در مجلس در سیس حاجی سید همیشه رو کا بلکہ شیعہ عقائد کی باپ نے تعریف کی اور انہیں عقیدہ کا ظلم رشتی حاضر می شدند و بدرس و مباحثه طلاب گوش امام غائب سمیت صحیح و درست قرار دیا۔بہائی تاریخ کے مطابق موقع مناسب آنے پر سید علی محمد دا دینے ۱۲ می دادند والرسالة التسع عشریه ملا ) ہجری میں جب اسید کاظم رشتی فوت ہوئے اور ان کے مریدڈرا میں ایک رنگ میں باب ہونے کا دعوی کر دیا جس کی نوعیت بہائی تاریخ کی کا بیشتر حصہ امام صدی کی تلاش میں سرگرداں تھا تو سید علی محمدون بودم رو سے یوں ہے :- کی دکان بند کر دی اور شیراز پہنچ گئے۔لکھا ہے:۔اسی فرقہ شیخیہ کے ایک نہایت مشہور عالم ملا حسین شہیروئی وعلى اثر هذا الحادث طوى الباب بساط کے بنانے رہے پہلے حضرت باب نے اپنے مشن کا اعلان کیا۔تجارته عائدًا إلى شيراز (الكواكب منه ، اِس اعلان کا ٹھیک وقت حضرت باب کی کتاب بیانی میں نامہ کہ اس نے فورا دکان بند کر دی اور شیراز کی طرف کے ماہ جمادی الاولی کی پانچویں تاریخ کو غروب آفتاب کے دو گھنٹے اور پندرہ منٹ بعد دیا گیا۔مطابق ۳ورسٹی زیر: چل پڑے۔وہ ان دنوں امام مہدی کی آمد کے بارے میں نیز دیگر عقائد شیعہ کیتا پورے نور سے کر رہے تھے۔بہائی مورخ لکھتا ہے :- نیز لکھا ہے :- ر عصر جدید اردو شاه افاض في البيان عن المهدي المنتظر ایک روز جمعہ کے دن انہوں نے بوشہر کی کسی مسجد میں بیان کیا