اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 85

85 اخبار نویسی (۵) پانچواں علم۔اخبار نویسی کا علم ہے۔انگریزی میں اس کو جرنل ازم اور عربی میں صحافت کہتے ہیں۔یہ علم بھی بڑا وسیع علم ہے۔ہمارے ملک میں تو نہیں مگر یورپ اور امریکہ میں اس کے بڑے بڑے مدرسے ہیں جن میں اخبار نویسی کا فن سکھایا جاتا ہے۔اس فن کی بہت سی شاخیں ہیں۔کس طرح اخبار کا لیڈر لکھا جائے ، خبروں کو کس طرح چُنا جائے اور کس طرح پر اُن کی ترتیب ہو، عنوان کیسے قائم کئے جائیں کہ اخبار پڑھنے والے پر اس کا فوری اثر ہو اور وہ اس کے مضمون کو عنوان ہی سے سمجھ لے، کس طرح پر ایک مضمون یا واقعہ کولکھا جائے کہ وہ اپنے مفید مطلب ہو سکے۔مثلاً زید اور بکر لڑتے ہیں۔زید کا دوست ایسے طور پر بیان کرتا ہے کہ زید معلوم تھا اور جگر کے دوست ایسے طور پر کہ جگر مظلوم سمجھا جائے۔غرض یہ بڑا علم ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہوتی ہیں جن میں سے بڑی یہ ہیں کہ کس طرح پر اخبار مفید اور دلچسپ ہو سکے اور پبلک کی رائے کا وہ آئینہ ہو جائے اور وہ اپنا اثر ڈال سکے۔پھر اخبارات کی حد بندی ہوتی ہے۔مثلاً بعض مذہبی اخبار ہوتے ہیں بعض تجارتی ، بعض کسی خاص جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی اغراض میں بھی ان کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔علم الہجو والملطائف (۶) چھٹا علم جو اس زبان کے نیچے آتا ہے علم الہجو والملطا ف ہے۔اس علم میں اس بات سے بحث کی جاتی ہے کہ کس طریق پر ہجو کمال کو پہنچ جائے اور اس میں زبان اور تحریر کی خوبی بھی اعلیٰ درجہ کی رہے۔اسی طرح ایسا لطیفہ ہو کہ سب بے اختیار ہنس پڑیں۔اس فن میں جو لوگ کمال حاصل کرتے ہیں بعض وقت وہ ایسی ہجو کرتے ہیں کہ فوراً اثر ہوتا ہے۔اسی طرح لطائف کا علم ہوتا ہے۔ایک شخص بیان کرتا ہے سننے والے بے اختیار ہو جاتے ہیں وہ ہنسی کو الکھنی ، دوسرا ضبط نہیں کر سکتے۔غرض یہ ایک مستقل علم ہے۔واعظ خاص طور پر اس سے کام لیتے ہیں۔قصہ نویسی (۷) ساتواں علم۔قصہ نویسی کا علم ہے۔اس کی دوشاخیں ہوتی ہیں۔ایک مختصر کہانی لو لمبا ناول لکھنا۔پھر ان میں جد احد ابحث ہے، قصوں اور ناولوں کے مختلف اقسام ہیں۔قصہ نویسی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے پڑھنے والوں پر ایک خاص قسم کا اثر ڈالا جائے۔بعض ناول ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں صرف ایسے واقعات کا ذکر ہوتا ہے جو محبت سے تعلق رکھتے ہیں یا سراغ رسانی کے متعلق ہوتے ہیں۔پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جن کا انجام غم پر ہوتا ہے اور بعض کا خوشی پر۔پھر جو باتیں چھوٹے چھوٹے