اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 84
84 جب کہا جائے کہ فلاں شخص شیر ہے تو بڑا اثر ہوتا ہے۔اس طرح پر گویا اس میں استعارات اور مجاز سے بھی بحث ہوتی ہے۔ایک شخص کی نسبت کہا جائے کہ غصہ ہو گیا ہے تو اتنا اثر نہیں ہوتا لیکن جب کہیں کہ آگ بگولا ہو گیا تو اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اس طرح پر گویا غیر لفظ بول کر اور مفہوم بن جاتا ہے۔اس علم بلاغت میں ایک بحث یہ ہوتی ہے کہ کلام خوبصورت کس طرح بنایا جاتا ہے۔اس علم کی بدولت انسان اچھی طرح بولنے یا کہنے لگتا ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص بڑی اعلے درجہ کی تقریر کرتا ہے یا بہت عمدہ لکھتا ہے تو یہ خوبی اس علم کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔غرض علم بلاغت میں یہ باتیں ہوتی ہیں۔علم لغت (۳) تیسر اعلم یعلم لغت ہے۔یعنی لفظوں کے معنی یہ خود بہت بڑا علم ہے اور بہت وسیع ہے۔زبان تو ہر شخص بول لیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ تکلیف ہے تو ہر شخص اس تکلیف کے اندازہ کو نہیں جانتا لیکن لغت بتائے گی کہ کس کس جگہ یہ لفظ بولا جاتا ہے اس محل کے لحاظ سے جب تکلیف کا لفظ بولا جاتا ہے تو سننے والا فوراً اس کے اندازہ کا ایک علم حاصل کر لے گا۔یہی علم ہے جو سب الفاظ کا احاطہ کرتا ہے یہ خود ایک مستقل علم ہے۔اگر چہ علم زبان سے ہی وابستہ ہے مگراب مستقل علم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔خط و کتابت (۴) چوتھا علم۔انشاء یا خط و خطابت ہے۔اس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح عمدگی سے اپنے خیالات کو تحریر انظا ہر لیا جائے۔خط و کتابت اور کتاب لکھنے میں فرق ہے۔کتاب لکھنے والا سمجھتا ہے اور ہوتا یہی ہے کہ وہ سب کے لئے لکھ رہا ہے اور خطہ ایسا ہوتا ہے کہ لکھنے والا ایک شخص کو لکھتا ہے اور جو اس کو پڑھتا ہے وہ جانتا ہے کہ مجھے لکھنا ہے اور گویا وہ سامنے بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے۔اسی طرح پر یہ علم ایک مستقل اور بڑا علم ہے اور اس علم نے اس زمانہ میں بڑی ترقی کی ہے۔بڑے بڑے کالج اسی غرض کے لئے کھولے گئے ہیں جہاں علم انشاء یا خط و کتابت کا علم سکھایا جاتا ہے۔پھر اس مخط و کتابت کی بہت سی قسمیں ہیں۔تاجروں کی مخلط و کتابت کس قسم کی ہو، افسروں اور ماتحتوں کی خط و کتابت کے کیا مراتب ہونے چاہیں۔اس غرض کے لئے مدرسہ اور کالج کھولے گئے ہیں اُن میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح محل کو زیادہ موثر بنایا جاتا ہے اور اس میں حفظ مراتب کے آداب اور امتیاز کو بھی سکھایا جاتا ہے۔