اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 70
70 سکھ مذہب (۸) آٹھواں مذہب سکھ مذہب ہے۔اس مذہب کے بانی گورونا تک صاحب کے عمل اور کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو اچھا جانتے ہیں۔ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندو بزرگوں کو بھی اچھا جانتے ہیں۔ان میں کوئی شریعت نہیں۔انکی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب ہے۔اسی کو یہ مانتے ہیں۔مسلمانوں سے اختلاف اور عداوت کی وجہ سے اُن سے الگ ہو گئے ہیں۔عام طور پر اس مذہب میں اخلاقی تعلیم ہوتی ہے۔بہادر بنو جُھوٹ نہ بولو۔وغیرہ۔اس کے دو بڑے فرقے ہیں۔ایک اکالی دوسرے اداسی۔اواسی پرانے ہندو بزرگوں کو بھی مانتے ہیں اور ا کالی کہتے ہیں کہ سکھ نیا مذ ہب ہے ہندوؤں سے تعلق نہیں۔آجکل اس فرقہ کا بہت زور ہے اور چھوٹے چھوٹے بہت سے فرقے اس مذہب میں ہیں۔ہوا جاپانی مذہب (۹) نواں مذہب شنتو ازم ہے جو جاپان کا مذہب ہے۔ان میں نہ شریعت ہے نہ کوئی قانون ہے۔اخلاقی باتیں ہوتی ہیں۔اور وہ روح کی طاقتوں کے قائل ہیں۔مردوں کی روحوں کی پرستش کرتے ہیں۔مذہب فلسفه (۱۰) دسواں مذہب فلسفہ کا ہے۔یہ شک وشبہ کا مذہب ہے۔دہریہ بھی اسی میں داخل ہے۔یورپ میں ان کو اگناسٹک کہتے ہیں۔اسکے معنے ہیں۔”میں نہیں جانتا۔اس مذہب کی بنیا محض وہم پر ہے۔ان کے سوا کچھ نئے مذہب پیدا ہوئے ہیں ان میں سے ایک بابی مذہب ہے۔اس کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم اللہ کے بعد ایک نیا رسول صاحب شریعت آیا ہے۔اس مذہب کا بانی ایک مخص محمد علی باب تھا جس کے نام سے منسوب ہو کر یہ لوگ بابی کہلاتے تھے پھر اس کے بعد اُس کا ایک خلیفہ بہاؤ اللہ اس کا جانشین ہوا اور اس کے نام سے منسوب ہو کر اس مذہب کا نام بہائی ہو گیا۔اور اب یہ لوگ آپنے آپ کو اسی نام سے ہی پکارا جانا پسند کرتے ہیں۔اس مذہب کا خیال ہے کہ حضرت امام حسین کی اولاد میں سے ایک امام غائب ہو گیا تھا جواب تک زندہ ہے۔وہ امام غائب ایک شخص کو اپنا قائمقام بناتا ہے وہ اس کا جانشین ہوتا ہے۔گویا وہ شخص امام غائب اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک واسطہ اور باب ہوتا ہے۔باب دروازہ کو کہتے ہیں۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ باب معصوم ہوتا ہے اُس سے غلطی اور خطا نہیں ہوتی کیونکہ وہ امام مہدی کا آئینہ ہوتا ہے اور یہ بھی اُن کا