اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 61
61 (۴) چوتھی بات یہ ہے کہ اُن کو عملاً سست کر دیتی ہیں اور وہ اس کا نام محبت رکھتی ہیں۔مثلاً نماز کے لئے جگاتی نہیں۔یا وضوء نہیں کرنے دیتیں کہ سردی لگ جاوے گی اور وہ اس وجہ سے دین کے کاموں میں سُست رہ جاتا ہے حالانکہ محنت کرنے سے زیادہ زور پیدا ہوتا ہے اور ہمت بڑھتی ہے۔تو بعض عورتیں بچوں کو بچپن میں مشق نہیں کروائیں جس کی وجہ سے اگر بچہ کسی کام کو کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔خالی ایمان کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ مشق نہ ہو۔اخلاص بھی کچھ کام نہیں کرنے دیتا اور وہ بڑا ہو کر ماں کو دعائیں دینے کی بجائے بُرا بھلا ہی کہے گا کہ اگر بچپن ہی میں مجھے مشق کروائی ہوتی تو آج مجھے عشاء اور تہجد وغیرہ کی نمازوں میں اور دوسرے دینی کاموں میں ذرا بھی دقت محسوس نہ ہوتی۔(۵) پانچویں بات یہ ہے کہ مرد تو باہر چلا جاتا ہے اور عورت بچوں کی پروا نہیں کرتی اور وہ اور بچوں کے ساتھ گلیوں میں پھرتے رہتے ہیں۔مرد اپنی سب سے زیادہ قیمتی چیز اولادکو عورت کے سپرد کر کے جاتا ہے وہ اس امانت میں خیانت کرتی ہے۔یہ پانچوں ہداثر ہیں جو عورت بچوں پر ڈالتی ہے اور وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کی حفاظت میرے ذمہ ہے۔کیا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دو سور و پی دے جاوے تو وہ اس رقم کو گلی کے کسی بچے کے ہاتھ دیدیگی؟ نہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ وہ اس چیز کو جو ہیروں پھلوں اور موتیوں بلکہ بادشاہوں سے زیادہ قیمتی ہے اُس کو گلی کے آوارہ بچوں کے سپر د کر دیتی ہے۔(۶) چھٹی بری عادت جو ماؤں میں ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بچوں کی غلطیوں کو چھپاتی ہیں۔بھلا کسی نے کسی عورت کو دیکھا کہ وہ بچے کی بیماری کو چھپائے نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر وہ اس کی بیماری کا علاج نہ کرے گی تو وہ مر جاوے گا لیکن وہ اس کی روحانی بیماریوں کو چھپاتی ہے۔اگر بچپن میں کوئی مرض پیدا ہو جاوے اور بچپن میں ہی اس کی اصلاح نہ کی جاوے تو بڑے ہونے کے بعد بڑی بڑی قربانیوں کے بغیر اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی مگر عورتیں پردہ ڈالتی ہیں۔بعض دفعہ بچہ جھوٹ بولتا ہے اور باپ سمجھانا چاہتا ہے تو ماں کہہ دیتی ہے کہ نہیں یہ بات اس طرح تھی اور خود بھی جھوٹ بول دیتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ خراب ہوتا چلا جاتا ہے۔(۷) ساتویں بات یہ ہے کہ عورتیں بچوں کی صحت کا خیال نہیں رکھتیں جس کی وجہ سے وہ بڑے ہو کر کوئی