اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 44
44 ہے۔صدقہ و خیرات وہاں کے غریب اور محتاج لوگوں کا حق ہوتا ہے جہاں انسان رہے۔اس میں مذہب کی شرط نہیں خواہ کسی مذہب کا انسان ہو اگر محتاج ہو تو اُس کی مددکرنی چاہیئے۔مثلاً اگر تمہیں کوئی غریب عورت ملے تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ چونکہ یہ ہندو ہے اس لئے اسے کچھ دینا نہیں چاہیئے بلکہ اس کو بھی ضرور دینا چاہیئے۔یہ تو خدا تعالی کے حکم میں ان کے علاوہ حکم ہیں۔اخلاق حسنہ سیکھو جو بندوں کو بندوں کے متعلق ہیں۔مثلاً یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آؤ۔کسی کی غیبت نہ کرو، چغلی نہ کرو، کسی کے مال میں خیانت نہ کرو، کسی سے بغض اور کمینے نہ رکھو۔عورتوں میں چغلی اور غیبت کی مرض بہت پائی جاتی ہے۔اگر کسی کے متعلق کوئی بات سن لیں تو جب تک دوسری کے سامنے بیان نہ کر لیں انہیں چین نہیں آتا۔جو بات سنتی ہیں جھٹ دوسری جگہ بیان کر دیتی ہیں حالانکہ چاہیئے یہ کہ اگر کوئی کسی بھائی بہن کا نقص اور عیب بیان کرے تو اُسے منع کر دیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔تو چغلی کرنا بہت بڑا عیب ہے اور اتنا بڑا عیب ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کی وجہ سے جہنم صلى الله میں ڈالیں جائیں گے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کہیں جارہے تھے کہ راستہ میں دو قبریں آئیں آپ وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ان قبروں کے مردے ایسے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی محبہ سے جہنم میں پڑے ہوئے ہیں کہ جن سے بآسانی بچ سکتے تھے لیکن بچے نہیں۔ان میں سے ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپکو نہیں بچاتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔تو چغلی بہت بڑا عیب ہے اس میں ہرگز مبتلا نہیں ہونا چاہیئے۔اگر تمہارے سامنے کوئی کسی کے متعلق براکلمہ کہے تو اُسے روک دو اور کہہ دو نہیں نہ سناؤ بلکہ جس کا عیب ہے اُسے جا کر سناؤ۔پھر اگر کوئی بات سن لو تو جس کے متعلق ہو اُس کو جا کر نہ سناؤ تا کہ فساد نہ ہو۔ای طرح کسی کی غیبت بھی نہیں کرنی چاہیئے۔کیا اپنے نقص کم ہوتے ہیں کہ دوسروں کے نقص بیان کرنے شروع کر دئے جاتے ہیں۔تمہیں چاہیئے کہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے عیب نکالو تا کہ تمہیں کچھ فائدہ بھی ہو۔دوسروں کے عیب نکالنے سے سوائے گناہ کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اپنی اصلاح کی فکر کرد پس اگر عیب ہی نکالنے میں تو اپنے عیب نکالونا کہ ان کے دور کر نیکی کوشش کر سکو۔تم اپنے متعلق دیکھو کہ تم میں چڑ چڑا پن تو نہیں پایا جاتا تم خواہ خواہ دوسری عورتوں سے لڑائی فساد تو نہیں کرتیں تمہارے اخلاق میں تو کوئی کمزوری نہیں اور جب تمہیں اپنی کمزوری معلوم ہو جائے تو اس کو دور