اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 436
436 سی عورتوں نے شکایت کی ہے کہ مردان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔بعض تو انہیں روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لجنہ کے جلسوں میں نہ جایا کرو اور بعض ایسے ہیں کہ اگر عورتیں لجنہ اماءاللہ قائم کرنا چاہیں تو وہ اس میں روک بن جاتے ہیں۔یہ ایک خطر ناک بات ہے۔جب تک عورتیں بھی دین کی خدمت کے لئے مردوں کے پہلو بہ پہلو کام نہیں کرتیں اس وقت تک ہم صحیح طور پر ترقی نہیں کر سکتے۔اسلام کی جو عمارت ہم باہر تیار کرتے ہیں اگر اس عمارت کی تیاری میں عورت ہمارے ساتھ شریک نہیں تو وہ گھر میں اس عمارت کو تباہ کر دیتی ہے۔تم بچے کو مجلس میں اپنے ساتھ لاؤ۔اسے وعظ و نصیحت کی باتیں سناؤ۔دین کی باتیں اس کے کان میں ڈالو لیکن گھر جانے پر اگر تمھاری عورت میں وہ روح نہیں جو اسلام عورتوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے تو بچے سے کہے گی کہ بچے تمھارے باپ کی متقل ماری ہوئی ہے وہ تمھیں یونہی مسجدوں میں لئے پھرتا ہے۔تمھاری صحت اس سے تباہ ہو جائے گی تم ایسا نہ کیا کرو۔باپ اپنے بچے کو اقتصادی زندگی بسر کرنے کی طرف ترغیب دے تو ماں کہنے لگ جائے گی کہ بیٹا تمھارا باپ محض بخل کی وجہ سے تمھیں یہ نصیحت کر رہا ہے اور نام اس کا دین رکھ رہا ہے ور نہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا دل تمھاری ضرورت کے لئے روپیہ خرچ کرنے کو نہیں چاہتا تم بے شک اپنے دل کے حو صلے نکال لو۔میں تمھاری مدد کے لئے تیار ہوں۔دیکھو اگر کسی گھر میں ایسا ہو تو ایک ہی وقت میں دو تلوار میں چل رہی ہونگی ایک سامنے سے اور ایک پیچھے سے۔اور یہ لازمی بات ہے کہ جہاں دو تلوار میں چل رہی ہونگی وہاں امن نہیں ہو سکتا۔پس اول ہماری جماعت کو نماز با جماعت کی پابندی کی عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔اور دوسرے جماعت کو خصوصیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے محنت کی عادت اختیار کرنی چاہیئے۔اور جس کام کے لئے کسی کو مقرر کیا جائے اس کے متعلق وہ اس اصول کو اپنے مد نظر رکھے کہ مجھے اب دیکھتے نہیں ہٹنا چاہیئے خواہ میری جان چلی جائے۔جب تک اس قسم کی روح اپنے اندر پیدا نہیں کی جائے گی جماعت پوری طرح ترقی نہیں کر سکتی۔تیسرے ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم کی جائے اور عورتوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کا خیال رکھا جائے۔چوتھے جماعت کے اندر سچائی کو قائم کیا جائے۔جب تک کسی قوم میں سچائی قائم رہتی ہے وہ ہارا نہیں کرتی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ابھی اس پہلو کے لحاظ سے بھی کمزوری پائی جاتی ہے۔مقدمات پیش ہوتے ہیں تو ان میں گواہی دیتے وقت بعض لوگ ایسی اینجا بچی سے کام لیتے ہیں کہ قاضی