اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 435
435 عورتیں شور مچاتی ہیں کہ ہمیں مردوں کے برابر ملازمتیں ملنی چاہئیں۔اگر ڈاکخانوں میں ،ہسپتالوں میں وہ مردوں کے برابر کام کر سکتی ہیں تو ان کو دین کے معاملے میں بھی برابر کا کام کرنا چاہیئے۔جس طرح خدا نے مردوں کو پانچ نمازوں کا حکم دیا اسی طرح عورتوں کو بھی یہی حکم ہے۔جس طرح روزے عورتوں کے لئے ہیں اسی طرح مردوں کے لئے ہیں۔تو دین کے لئے جس طرح مردوں نے کام کرنا ہے اسی طرح عورتوں نے۔کوئی وجہ نہیں کہ وہ دین کے میدان میں پیچھے رہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نصف دین عائشہ سے سیکھو۔اس کا یہ مطلب ہے کہ آدھا دین مردوں کے حصہ میں ہے اور آدھا عورتوں کے حصہ میں ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ آدھا دین ایک عورت کے پاس ہے اور باقی آدھا دین تمام دنیا کے مرد و عورت کے پاس ہے۔کوئی پہلو بھی لے لو تو عورتیں پیچھے نہیں رہ سکتیں۔پس تمھیں چاہئے کہ تم دین کی طرف توجہ کرو۔جوان پڑھ ہیں انہیں پڑھاؤ۔اگر کسی جگہ کوئی پڑھی ہوئی نہیں اس جگہ قادیان سے ایسی بوڑھی ادھیڑ عمر کی عورتیں منگوائی جاسکتی ہیں جن کے ساتھ مرد کے جانے کی ضرورت نہ ہو۔اور جو پانچ چھ ماہ رہ کر انہیں پڑھنا لکھنا سکھائیں۔جب تم اپنی زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھ لوگی تو تمھارے لئے دین کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔جہاں کچھ پڑھی ہوئی اور کچھ ان پڑھ عورتیں ہوں وہ آپس میں ایک دوسری کو پڑھا ئیں۔میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ پہلے لبنات بنائی جائیں پھر تعلیم کا انتظام کیا جائے۔اپنی تنظیم کرو۔اگر تم صحیح طور پر لکھنا پڑھنا سیکھ لوگی تو اپنے علاقہ میں آسانی سے تبلیغ کر سکوگی۔اس کے بعد تم دیکھو گی کہ جماعت کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں گنے بڑھ جائے گی۔انشاء اللہ۔اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی۔چارا ہم نصیحتیں (۱) حماز با جماعت (۲) لجنہ اماء اللہ کا قیام (۳) سچائی (۴) محنت کی عادت مورخہ ۲۸۔دسمبر ۱۹۴۶ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور کی تقریر کا اقتباس)۔۔۔۔۔مردوں کو چاہیئے کہ جہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں وہاں لجنہ اماءاللہ قائم کریں۔میرے پاس بہت