اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 430
430 ڈالی اور عورتوں کے مونہوں پر ڈالنی شروع کر دی۔حضرت عائشہ نے دیکھ لیا اور اُس صحابی سے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے احث التراب على وجو ھھن۔حضرت عائشہ نے فرمایا تم کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ اس سے آپ کا منشاء کیا ہے آپ کا منشاء ہے کہ ان کو چھوڑ دو وہ خود بخود خاموش ہو جائیں گی۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ کے اس فقرہ کو ایک صحابی مر نہیں سمجھ سکا لیکن حضرت عائشہ اس کو سمجھ گئیں۔پس کوئی صیغہ دین کا اور قربانی کا ایسا نہیں تھا جس میں عورتیں پیچھے ہوں۔جن عورتوں کی مثالیں میں نے تمھارے سامنے بیان کی ہیں وہ بھی عورتیں ہی تھیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ تمھاری طرح نازک اندام نہ تھیں اور وہ اپنے فرائض کو بجھنے والی تھیں۔اگر تم چاہتی ہو کہ انہی انعامات کی وارث بنو جو صحابہ اور صحابیات پر ہوئے تو ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو۔اب باتیں کرنے کے دن نہیں رہے اب ہر دن جو مسلمانوں پر چڑھتا ہے ان کے لئے زیادہ سے زیادہ آفتیں اور مصائب لاتا ہے۔اور جو آ سکند و مردوں پر آئیں گی اُس میں تم بھی اسی طرح شریک ہوگی جس طرح مردان مصائب میں حصہ دار ہوں گے۔کابل میں جو احمدی شہید کئے گئے ان میں سے اکثر کی بیویوں اور بچوں کو سخت سے سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔عورتیں بیوہ ہو گئیں اور بچے یتیم ہو گئے۔اور ایک لمبے عرصہ تک انہیں قید کی مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں۔اسی طرح اگر آئندہ زمانہ میں احمدیت کے لئے مصائب پیدا ہوں گے تو اس میں تم بھی برابر کی حصہ دار ہوگی۔پس ہوشیار ہو جاؤ اور سُستیوں کو ترک کرو۔جب تک عورتیں مردوں کے ساتھ ہر کام میں اُن کے دوش بدوش نہیں چلتیں اُس وقت تک تبلیغ کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور اس وقت تک اسلام دنیا پر غالب نہیں ہو سکتا۔مجھے یہاں کی لجنہ اماءاللہ کی سیکرٹری سے یہ بات سن کر بہت تکلیف ہوئی کہ عورتیں دینی کاموں میں بہت کم حصہ لیتی ہیں اور لجنہ کے اجلاس میں بہت کم عورتیں حاضر ہوتی ہیں۔اکثر عورتیں یہ کہ دیتی ہیں کہ ہمیں اپنے کاموں سے فرصت نہیں ہوتی۔بعض کہ دیتی ہیں کہ ہمارے مرد ہمیں باہر نہیں نکلنے دیتے۔کیا تم مجھتی ہو کہ تمھارا ایمان تمھارے خاوندوں اور تمھارے بھائیوں کے ماتحت ہے۔ایسے موقع پر تمھیں چاہیئے کہ اگر تمھارا بھائی یا تمھارا خاوند تمھیں دینی کاموں میں حصہ لینے سے روکے تو تم اُسے صاف کہہ دو کہ اس معاملہ میں میں تمھاری بات ماننے کو تیار نہیں۔مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب میں نے دینا ہے۔