اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 431

نہ کہ تم نے۔431 جب پردے کا حکم نیانیا نازل ہوا تو ایک صحابی نے ایک شخص سے درخواست کی کہ میں آپکی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔وہ شخص رضا مند ہو گیا۔لیکن شادی کرنے والے نے یہ شرط لگائی کہ جب تک میں لڑکی کو دیکھ نہ لوں اُس وقت تک شادی نہیں کروں گا۔جب اس نے یہ شرط پیش کی تو لڑکی والے نے انکار کر دیا کہ ہم لڑکی دکھانے کے لئے تیار نہیں۔وہ صحابی جو شادی کا خواہشمند تھا رسول کریم نے کی مجلس میں صلى الله حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ایک آدمی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن لڑکی والے دکھانے سے انکار کرتے ہیں ایسی صورت میں کیا کیا جائے۔آپ نے فرمایا کہ اسلام نے عورتوں کے لئے پردے کا حکم دیا ہے لیکن شادی کے موقع پر اسلام نے اجازت دی ہے کہ مرد عورت کو دیکھ سکتا ہے۔رسول کریم میلے کا یہ جواب سنکر وہ شخص پھر لڑکی والوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے رسول کریم نے سے پو چھا ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایسے موقع پر عورت کا منہ دیکھنا جائز ہے۔لڑکی کے باپ نے کہا جائز نا جائز کا سوال نہیں میں لڑکی دکھانے کو تیار نہیں اس میں میری ہتک ہے۔لڑکی نے اندر بیٹھے ہوئے ان دونوں کی گفتگو کوسن لیا اور جوش سے پردہ ایک طرف کر کے اُس مرد کے سامنے آکھڑی ہوئی اور کہا اگر رسول کریم ﷺ کا یہ فرمان ہے تو میرے باپ کا کوئی حق نہیں کہ مجھے دکھانے سے انکار کرے میں تمھارے سامنے کھڑی ہوں مجھے دیکھ لو۔چونکہ اُس وقت مردوں اور عورتوں میں اعلیٰ درجہ کا ایمان پایا جاتا تھا جونہی وہ لڑکی یہ کہتے ہوئے سامنے آئی کہ اگر آنحضرت یہ کہتے ہیں تو میرے باپ کا کیا حق ہے کہ مجھے دکھانے سے انکار کرے اس شخص کی آنکھیں معارُعب سے نیچے جھک گئیں۔اُس نے کہا جس لڑکی کو رسول کریم اللہ کے فرمان کا اس قدر پاس ہے خدا کی قسم میں اس سے بے دیکھے شادی کروں گا۔چنانچہ اس شخص نے اس لڑکی سے بے دیکھے شادی کی۔یہ وہ عورتیں تھیں جن کے دلوں میں اللہ اور اُس کے رسول کی عظمت تھی۔پس تمھارے باپ یا تمھارے بھائی کی تم پر اس وقت تک حکومت ہے جب تک وہ دین کے رستے میں روک نہیں بنتے لیکن اگر وہ تمھیں دینی کاموں میں حصہ لینے سے روکتے ہیں اور تم ان کی بات مان لیتی ہو تو تم نے خدا کی بجائے اپنے بھائی یا اپنے خاوند کو اپنا خدا سمجھا اور تم نے نیکی حاصل کرنے کی بجائے گناہ کا ارتکاب کیا اور ایمان دار بنے کی بجائے تم بے ایمان بن گئیں۔تم کو سب سے زیادہ عزیز اپنا ایمان ہونا چاہئے اور