اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 427

427 نبی نہیں آسکتا۔لیکن آج سے تیرہ سو سال قبل حضرت عائشہ نے اس غلطی کو تاڑ لیا اور بہت زور دار لفظوں میں اس کی تردید کی۔کتنا عظیم الشان حل ہے جو حضرت عائشہ نے پیش کیا۔اس قسم کی اور بہت سی مثالیں ہیں اور بہت سے مواقع ہیں جن میں عورتیں مردوں پر سبقت لے گئیں۔ایک دفعہ رسول کریم اللہ نے ایک لشکر جنگ کے لئے بھیجا اور اس کا سردار حضرت زید کو بنایا۔حضرت زید رسول کریم اللہ کے غلام تھے جن کو آپ نے آزاد کر دیا تھا۔آزاد ہونے کے بعد حضرت زید نے رسول کریم اللہ کا ساتھ چھوڑنا پسند نہ کیا۔حضرت زید کے چچا اور ان کے والد ان کو لینے کے لئے آئے۔انہوں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ زید کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں اس کی والدہ روتے روتے اندھی ہوگئی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔میں زید کو آزاد کر چکا ہوں اور اس کو میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ خوشی کے ساتھ چلا جائے آپ نے زیڈ کو بلایا اور فرمایا کہ دیکھو تمھارا باپ اور تمھارا چا تمھیں لینے آئے ہیں تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔حضرت زید اصل میں آزاد خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ان کو بچپن میں عیسائی ڈا کو پکڑ کر لے گئے تھے اور کسی کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔آخر بسکتے سکتے وہ حضرت خدیجہ کے ہاتھ پک گئے تھے۔جب رسول کریم کی حضرت خدیجہ سے شادی ہوئی تو حضرت خدیجہ نے یہ غلام آپ کی نذر کر دیا اور رسول کریم نے اسے آزاد کر دیا۔حضرت زید کے والد نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ جتنا روپیہ لینا چاہتے ہیں لے لیں اور زید کو آزاد کر دیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تو اُس کو پہلے ہی آزاد کر چکا ہوں اور اسے میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ تمھارے ساتھ چلا جائے۔آپ نے زید کو فرمایا کہ تمھارے ماں باپ کو تمھاری جدائی کی وجہ سے صدمہ ہے اب تم اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ۔لیکن حضرت زید نے کہا آپ بے شک مجھے آزاد کر چکے ہیں لیکن میں اپنے آپکو آزاد نہیں سمجھتا۔میں آپ کو کسی حالت میں بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور آپ مجھے ماں باپ سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔پھر اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی ماں سے بہت محبت ہے میری ماں کو میری طرف صلى الله سے سلام کہنا اور یہ عرض کرنا کہ مجھے تیری محبت سے رسول کریم ﷺ کے ساتھ زیادہ محبت ہے۔جب حضرت