اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 424

424 ان کے لئے جوش میں آیا اور ان پر کامیابی کے دروازے کھول دئے۔رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت تمام عرب میں اسلام پھیل چکا تھا۔رسول کریم ﷺ کی صحابیات ہر قربانی پر آپ سے یہ عرض کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ ! کیا ان قربانیوں میں ہمارا حصہ نہیں ہے۔مرد ہر میدان میں قربانی کے لئے اپنے آپکو پیش کرتے ہیں لیکن ہم جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لے سکتیں آپ ہمیں کیوں اس میں حصہ نہیں لینے دیتے۔اُس زمانہ کی عورتیں قربانی کے کام کر کے مردوں کا مقابلہ کرتی تھیں۔اور آج کل کی عورتیں اپنے تجھے مین سے مردوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔رسول کریم ﷺ ایک دفعہ جنگ کے لئے جانے لگے تو ایک صحابیہ بھی لشکر میں آشامل ہوئیں۔جب صحابہ نے اس کو منع کیا تو اس عورت نے کہا کیوں ، ہم کیوں نہ جائیں، کیا ہم پر اسلام کی خدمت فرض نہیں۔اس کا یہ جواب سنکر رسول کریم میں نے ہنس پڑے اور فرمایا اسے بھی ساتھ لے چلو۔زخمیوں کو پانی پلانا اور ان کی مرہم پٹی کرنے کا کام اس کے سپرد کر دیا۔فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہو ا تو مال غنیمت میں اس عورت کا حصہ بھی ایک مرد کے برابر رکھا گیا۔اس کے بعد رسول کریم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے جو نرسنگ کا کام کرتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں۔اکثر دفعہ آپ کی بیویاں بھی جنگ میں شامل ہوتیں اور نرسنگ کا کام کرتیں۔جنگ اُحد میں رسول کریم ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ بھی شامل تھیں۔کوئی جنگ ایسی نہیں جس میں صحابیات پیچھے رہی ہوں۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالے جہاں مومن مردوں کا ذکر کرتا ہے وہاں مقابل میں عورتوں کا بھی ذکر کرتا ہے۔اگر یہی جذ بہ آج ہماری عورتوں میں بھی پیدا ہو جائے تو احمدیت بہت جلد ترقی کرنے لگے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری عورتیں یہ مجھتی ہیں کہ تبلیغ کرنا اور اسلام کے لئے قربانی کرنا صرف مردوں کا کام ہے ہمارا کام صرف کھانا پکانا اور بچوں کو پالنا ہے۔تم میں سے کتنی ہیں جو باقاعدہ طور پر تبلیغ کرتی ہیں؟ میرا خیال ہے کہ عورتوں کی تبلیغ سے ہزار میں سے ایک عورت بھی ایسی نہیں جو کسی احمدی عورت کی تبلیغ کی وجہ سے احمدی ہوئی ہو۔اکثر عورتیں ایسی ہیں کہ جن