اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 419

419 عمر نے حواینی ظالمانہ کرتوت کی ندامت کے اثر سے بھیگی تبھی بنے سامنے کھڑے تھے لجاجت کرتے ہوئے بہن سے کہا کہ بہن میں کیا کروں جس سے قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کے قابل بن جاؤں۔بہن نے کہا وہ سامنے غسل خانہ ہے وہاں جاؤ اور غسل کر کے آؤ پھر قرآن کریم کو ہاتھ لگانے دوں گی۔عمر خاموشی سے وہاں گئے اور غسل کیا۔پھر بہن کے سامنے آئے۔اب بہن کے دل میں بھی امید کی شعاع پیدا ہونے لگی اور اس نے دھڑکتے دل سے سوچنا شروع کیا کہ شاید میرا کافر بھائی اسلام کی روشنی سے حصہ پالے۔اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے قرآن کے وہ ورق جس کا سبق میاں بیوی لے رہے تھے عمر کے ہاتھ میں دیئے۔عمرؓ نے قرآن کریم کو آج پہلے دن اس حالت میں پڑھا کہ ان کا دل تعصب سے آزاد تھا۔ابھی چند آیات ہی پڑھی تھیں کہ قرآن کریم نے ان کے دل کو رام کرنا شروع کیا۔کچھ آیتیں اور پڑھیں تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔کچھ اور بڑھے تو اپنے کفر سے گھن آنے لگی۔اپنی سابق زندگی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے کچھ اور آیتیں پڑھیں تو دل ہاتھ سے صلى الله جاتا رہا۔دیوانہ وار اٹھے اور بہن سے کہا محمد (ﷺ) کہاں رہتے ہیں۔بہن بھائی کو محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور اس کے دل سے دعائیں نکل رہی تھیں کہ کاش میری ماں کا جایا دوزخ سے نجات پائے۔اتنے میں کان میں آواز آئی بہن ! محمد کہاں رہتے ہیں۔بھائی کی محبت کو اس آواز نے ہوا میں اُڑا دیا۔محمد رسول اللہ کی محبت اب پورے جوش سے اس کے دل کے فوارہ سے پھوٹنے لگی۔اس نے سوچا اگر عمر کا یہ جوش عارضی ہؤا۔اگر اس کے دل میں بدنیتی کے خیال پوشیدہ ہوں۔اگر اس نے میرے محبوب محمد کو قتل کرنے کا اردو کیا ہوتو پھر کیا میں کروں گی۔اس نے عمر کے اسلام کے خیال کو دماغ کے پچھلے خلیوں میں دھکیل دیا اور محمد اللہ کی محبت کے جوش سے متوالی ہو کر عمرہ کا گریبان پکڑ لیا اور اس دیوانگی سے جسے محبت کے سوا اور کوئی چیز نہیں پیدا کر سکتی۔چلائی خدا کی قسم میں تم کو میدے کے پاس جانے نہیں دوں گی پہلے قسم کھاؤ کہ تم کسی بد ارادہ سے نہیں جار ہے۔عمرؓ نے بہن کی طرف مسکین نگاہوں سے دیکھا جس طرح مُرغ بسمل ذبح کے وقت دیکھتا ہے۔اور کہا بہن ! میں مسلمان ہونے جارہا ہوں یہ کلام کیا تھا مر دہ بہن کو زندہ کرنے والا تھا۔اس نے عمر کا گریبان چھوڑ دیا اور اپنے خدا کا شکر ادا کیا جس نے بچھڑے ہوئے بھائی کو پھر سے بہن کو ملا دیا جس نے خطاب کے گھرانہ کی دوزخ کو جنت سے بدل دیا اور کہا رسول ام ہانی کے گھر پر ہیں اور عمر خاموشی سے