اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 352
352 محسوس کریں گے اور انہیں اس کی باتوں میں لذت آئے گی۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ دین پر عمل کرو۔دوسری بات یہ ہے کہ اتنا اچھا عمل کرو کہ لوگوں میں شہرت ہو جائے۔تیسرا یہ کہ ایسی باتیں کرو جن سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔پھر طیبہ کے چوتھے معنے شیریں کے ہیں۔یعنی تمہاری باتیں ایسی ہوں جو نہ صرف لوگوں کو فائدہ بخشیں بلکہ عملی بھی ہوں اور صرف دماغ سے تعلق نہ رکھتی ہوں بلکہ ایسی شیریں ہوں جو دل سے تعلق رکھیں اور جن سے حلاوت ایمان نصیب ہو۔عقلی باتوں سے لذت تو آتی ہے لیکن حلاوت نصیب نہیں ہوتی۔شاعر کتنے اچھے کہتے ہیں لیکن وہ تھے نہیں ہوتے۔پھر ایک شخص خدا کی باتیں سناتا ہے اور نہایت فصیح و بلیغ طریق پر الفاظ لاتا ہے لیکن اس کی باتیں بھی لذیز ہوتی ہیں شیر یں نہیں ہوتیں۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے جن میں گو لفاظی نہیں ہوتی مگر ان باتوں سے دلوں پر اثر ہوتا ہے اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔اسکی باتیں شیریں کہلائیں گی کیونکہ وہ دلوں پر اثر کرنے والی ہوں گی۔یہ چار باتیں ہیں جن کا مومن کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔اگر تم ایسی بن جاؤ تو تم جنت کی وارث بن سکتی ہو۔جنت کیا ہے۔جنت کے درخت مومن ہیں اور جنت کی نہریں مومنوں کے اعمال۔جب یہ سارے وہاں اکھٹے ہو جائیں گے تو سب لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیں گے۔اس دُنیا اور اگلے جہان میں یہ فرق ہے کہ یہاں مومن چھپے ہوئے ہیں اگلے جہاں میں اُن سب کو اکٹھا کر دیا جائے گا تب دنیا حیران رہ جائے گی کہ واہ کیسے شان دار لوگ ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب، حضرت خواجہ باقی باللہ صاحب ، حضرت قطب الدین صاحب ، حضرت خواجہ نظام الدین صاحب، حضرت سید احمد صاحب بریلوی اور دوسرے ہزاروں بزرگ جو امت محمدیہ میں گزرے ہیں جب یہ سارے وہاں اکٹھے ہو جائیں گے تو لوگ ان کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔دنیا میں تو الگ الگ درخت تھے لیکن وہاں میٹھے پھلوں والے باغات کی صورت میں دکھائی دیں گے اور اُن کے عمال اور ایمان کو دیکھ کر لوگ کہہ اُٹھیں گے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جنت نہیں۔جس گاؤں میں جھوٹ بول کر لوگ فتنہ ڈلواتے ہیں۔لوگوں کا مال فلنا چھین لیتے ہوں، بھو کے کا خیال نہ کرتے ہوں اور ڈاکے ڈالتے ہوں اس کو کیسے جنت کہہ سکتے ہیں؟ اس کے مقابلہ میں اگلے جہاں کی سب سے بڑی جنت یہ ہے کہ اس میں تمام